کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 86
نہیں ہے۔ کیونکہ حدیث کے مطابق مردوں کے لئے سونا پہننا اورانہیں بطور زیورات استعمال کرنا حرام ہے۔ عورتیں اگرسونے کادانت بطور زیب و زینت استعمال کرتی ہوں توجائز ہے بصورت دیگر اسراف ہے ۔اس کی اجازت نہیں ہے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت کی عورتوں کے لئے سونے اور ریشم کوحلال قرار دیاگیا ہے۔‘‘ [ترمذی ،اللباس :۱۷۲۰] اگرکسی نے ضرورت کے پیش نظر سونے کا دانت لگوایا تھا توفوتگی کے بعد اگرآسانی سے اتارا جاسکے تواسے اتارلیناچاہیے ۔ کیونکہ سونامال ہے، وفات کے بعد وہ اس کے وارثوں کاہوچکا ہے ،اگرکسی نے مصنوعی دانت لگوائے ہوں تووضو یاغسل کرتے وقت انہیں اتارناضروری نہیں ہے ، کیونکہ دانتوں کااپنی جگہ سے باربار اتارنا اورانہیں دوبارہ لگانابہت مشکل کام ہے، اس بنا پر وضو کرتے وقت انہیں اتارنے کی قطعاًکوئی ضرورت نہیں ہے ۔ سوال: کیااونٹ کاگوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے قرآن و حدیث کے مطابق جواب دیں ؟ جواب: اونٹ کاگوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اس کے بعد حقیقی وضو کرناہوگا۔ حضرت جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے سوال کیا: آیا میں اونٹ کے گوشت سے وضو کروں، آپ نے فرمایا: ’’ہاں ا ونٹ کے گوشت سے وضو کرو۔‘‘ [صحیح مسلم ، الحیض:۳۶۰] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اونٹ کاگوشت کھانے کے بعد وضو کرنا چاہیے، وہ گوشت جسم کے کسی حصے یا عضو کاہوناقض وضو ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی حلال جانور کاگوشت ناقض وضونہیں۔ [واﷲ اعلم] سوال: ایک عورت کے ذمے غسل جنابت کرناتھا لیکن اسے حیض آگیا، اب اس کے لئے کیاحکم ہے ؟ جواب: اگرکسی مردیاعورت نے غسل جنابت کرناہو توبلا وجہ تاخیر کرنامناسب نہیں ہے، اس کی حکمی نجاست کوجس قدرممکن ہوجلدی دور کرلیاجائے لیکن اگرکسی مجبوری کی وجہ سے کوئی عورت غسل جنابت نہیں کرسکی ،اس دوران اسے حیض آگیا تواب الگ سے غسل جنابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے اگروہ نفسیاتی طورپر اپنابوجھ ہلکاکرناچاہتی ہے توالگ بات ہے، تاہم پیش آمدہ صورت حال میں اسے غسل جنابت کرنے کی ضرورت نہیں اورنہ ہی اس کاکوئی فائدہ ہے جب حیض سے فارغ ہوتو دونوں کے لئے ایک غسل کافی ہوگا ،حیض کی کثافت ،جنابت سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ جنابت کی حالت میں روزہ رکھنے کی اجازت ہے جبکہ بحالت حیض روزہ رکھنے کی ممانعت ہے ۔ہما رے رجحان کے مطابق اسے الگ سے غسل جنابت کے تکلف کی ضرورت نہیں، بلکہ ایام سے فراغت کے بعد ایک ہی غسل کافی ہوگا۔ [واﷲ اعلم] سوال: میری ہمشیرہ کی شادی کوچار سال ہوچکے ہیں اسے بعض اوقات دوران حمل خون جاری ہوجاتا ہے اورحمل بھی برقرار رہتا ہے، ایسے خون کے متعلق شرعاًکیا حکم ہے؟ کیا اس دوران نماز، روزہ ادا کرنا چاہیے یا نہیں، کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت کریں؟ جواب: حیض وحمل کے اعتبار سے عورتوں کوعام طور پرتین اقسام دیکھنے میں آتی ہیں جن کی تفصیل یہ ہے: 1۔ اکثرعورتیں ایسی ہیں کہ انہیں استقرارحمل کے بعد حیض آنابند ہوجاتا ہے، وہ عورتیں صرف حیض کے بند ہونے سے حمل کوپہچانتی