کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 84
فرمایا تھا: ’’جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر اس نے دورکعت اداکیں کہ پڑھتے وقت دل میں دنیاوی خیالات پیدانہیں ہونے دیے تواﷲ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف فرمادے گا ۔‘‘ [صحیح بخاری :۱۶۴] اسی طرح حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جومسلمان اچھی طرح وضو کرے، پھر کھڑا ہوکر مکمل توجہ کے ساتھ دورکعت پڑھے تواس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے ۔‘‘ [صحیح مسلم :۲۳۴] صبح کی نماز کے بعد ایک مرتبہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’اے بلال! تم کس عمل کی وجہ سے جنت میں میرے آگے آگے تھے ؟میں جب بھی جنت میں داخل ہواتو میں نے اپنے آگے تمہارے چلنے کی آواز ضرورسنی اورآج رات بھی اسی طرح ہوا کہ میں جنت میں داخل ہواتو اپنے آگے تیرے چلنے کی آواز سنی ،انہوں نے عرض کیا: یارسول اﷲ! میں نے جب بھی اذان کہی ،اس کے بعد دورکعت ضرور ادا کیں اورجب بھی میرا وضو ٹوٹا تومیں نے دوبارہ وضو کیا تودورکعت اداکیں ، میں نے یہ ذہن بنالیا ہے کہ دورکعت پڑھنا اﷲ تعالیٰ کامجھ پر حق ہے۔ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انہی دورکعت کے پڑھنے کی وجہ سے تم جنت میں میرے آگے آگے تھے۔‘‘ [مسند امام احمد ،ص: ۳۶۰،ج۵] اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وضو کے بعد دورکعت ہر وقت ادا کی جاسکتی ہیں، اس میں ممنوع اوقات کی بھی پابندی نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا جب بھی وضو ٹوٹتا تو وہ ہر مرتبہ وضو کرتے اور وضو کے بعد نماز پڑھتے، خواہ کوئی بھی وقت ہوتا۔ [فتح الباری، ص۳۵، ج۳] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کابھی یہی موقف ہے کہ سنت وضوہروقت پڑھی جاسکتی ہیں، اگرچہ ممنوع اوقات میں سے کوئی وقت کیوں نہ ہو۔ [الاختیارات، ص:۱۰۱] واضح رہے کہ مطلق نوافل ممنوعہ اوقات میں ادا کرنامنع ہیں، البتہ جن نوافل کاکوئی سبب ہوجنہیں فقہاء کی اصطلاح میں’’صلوٰۃ سببی‘‘کہتے ہیں ،انہیں ہروقت اداکیاجاسکتا ہے ۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام نووی رحمہ اللہ کے حوالہ سے اس کی تفصیل لکھی ہے۔ [فتح الباری، ص: ۳۵،ج۳] سوال: ’’لاَ یَمَسُّہُ اِلاَّ الْمُطَھَّرُوْنَ‘‘اس آیت کریمہ کے پیش نظر کیاقرآن پاک کوبلاوضو ہاتھ لگایا جاسکتا ہے یا نہیں کتاب و سنت کے مطابق جواب دیں؟ جواب: سوال میں ذکر کردہ آیت کامعنی یہ ہے کہ ’’قرآن مجید کوپاک لوگوں کے سوااورکوئی نہیں چھوسکتا۔ ‘‘ [۵۶/الواقعۃ:۷۹] مفسرین نے اس آیت کریمہ کے کئی ایک مطلب بیان فرمائے ہیں ۔جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ پاکیزہ لوگوں سے مراد فرشتے ہیں، یعنی یہ کتاب قرآن مجید لوح محفوظ میں ثبت ہے وہاں سے پاک فرشتے ہی لاکررسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کسی شیطان کی وہاں تک دسترس نہیں ہوسکتی جواسے لاکرکسی کاہن کے دل پرنازل کردے ۔ ٭ قرآن پاک کے مطالب ومضامین تک رسائی صرف ان لوگوں کی ہوسکتی ہیں جن کے خیالات پاکیزہ ہوں اور کفر وشرک کی آلودگی سے پاک ہوں۔ عقل صحیح اورقلب سلیم رکھتے ہوں۔ جن لوگوں کے خیالات ہی گندے ہوں ان کی رسائی قرآن کریم کے