کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 83
کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے، چنانچہ امام ابوداؤد لکھتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب ،ابو مسعود، براء بن عازب، انس بن مالک ،ابوامامہ، سہل بن سعد ،عمر وبن حریث،عمربن خطاب اورابن عباس رضی اللہ عنہم نے جرابوں پرمسح کیا،سائل نے جس روایت کے متعلق لکھا ہے کہ وہ متصل نہیں ہے وہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس کے متعلق امام ابوداؤد لکھتے ہیں کہ وہ روایت متصل نہیں اورنہ ہی قوی ہے، اس روایت کوابن ماجہ نے بیان کیاہے۔ [الطہارۃ:۵۶۰] اس روایت پر دواعتراض ہیں ایک یہ کہ مذکورہ روایت متصل نہیں کیونکہ حضرت ابوموسیٰ اشعریٰ رضی اللہ عنہ سے بیان کرنے والے ضحاک بن عثمان ہیں جسے حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سماع حاصل نہیں ہے،حالانکہ یہ دعویٰ انتہائی سطحی ہے کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ جواس فن میں ید طولیٰ رکھتے ہیں فرماتے ہیں کہ اسے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سماع حاصل ہے۔ [تاریخ کبیر،ص: ۳۳۴،ج۲] دوسرااعتراض یہ ہے کہ اس روایت میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان ہے جسے امام احمد وغیرہ نے بھی ضعیف کہا ہے، حالانکہ ابن سنان کے متعلق علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ اس کی احادیث لکھی جاتی ہیں۔ بعض محدثین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور امام عجلی کہتے ہیں کہ اس سے روایت لینے میں چنداں حرج نہیں ہے۔ [میز ان الاعتدال] اس کے علاوہ دومزید روایات پیش خدمت ہیں جوجرابوں پرمسح کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں : 1۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہم کیلئے ایک فوجی دستہ بھیجا جنہیں سردی سے تکلیف ہوئی جب وہ واپس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورسخت سردی کی شکایت کی توآپ نے حکم دیا کہ وہ پگڑی اورجرابوں پرمسح کرلیا کریں ۔ [مسندامام احمد،ص ۲۷۵،ج ۵،محلیٰ ابن حزم ،ص:۸۱،ج ۲] 2۔ حضرت ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کودیکھا کہ وہ بے وضو ہوئے توانہوں نے وضو کے لئے ہاتھ اورمنہ کو دھویا، پھر اون کی جرابوں پرمسح کیا،لوگوں نے اعتراض کیا کہ ان پر مسح کرناجائز ہے ؟اس پر آپ نے فرمایا: کیوں نہیں؟ یہ بھی موزے ہیں لیکن اون کے ہیں۔ [الکنیٰ والاسماء للد ولابی، ص: ۱۸۱ج۱] حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت متعدد طرق سے مروی ہے ۔ [محلیٰ ابن حزم، ص: ۸۵،ج۲] امام ترمذی رحمہ اللہ نے ابومقاتل سمرقندی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ وہ امام ابوحنیفہ کے پاس اس وقت گئے جب وہ بیمار تھے انہوں نے وضو کے لئے پانی منگوایا اوروضوکیا ،آپ نے جرابیں پہن رکھی تھیں۔ انہوں نے ان پر مسح کیااور فرمایا کہ میں نے آج ایسا کام کیا ہے جوپہلے نہیں کرتاتھا، یعنی میں نے جرابوں پرمسح کیا جن کے نیچے چمڑا نہیں لگاہوا ،یعنی سادہ ہیں۔ [ترمذی، الطہارۃ: ۹۹] سوال: وضو کے بعد دورکعت اداکرنے کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں ،بعض لوگ عصر کے بعد بھی وضو کی دورکعت پڑھتے ہیں، جبکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، کتاب و سنت کی روشنی میں اس الجھن کودور کریں؟ جواب: وضو کے بعد دورکعت پڑھنا احادیث سے ثابت ہے اوررسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی فضیلت بیان فرمائی ہے ۔چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ مکمل وضو کیا، پھرفرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کواسی طرح وضو کرتے دیکھاتھا اورآپ نے