کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 82
دوسرے الفاظ اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتے، جیسا کہ ذبح کرتے ،کھاناکھاتے اورپانی پیتے وقت یہی تسمیہ مشروع ہے اور اس کا محل نیت کے بعد وضو کے تمام اعمال سے پہلے ہے۔ [مغنی، ص: ۴۶،ج۱] اس کے علاوہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ’’اے ابوہریرہ! جب وضو کرو تو پہلے بسم اللّٰہ والحمدللّٰہ پڑھ لیاکرو ۔‘‘ [مجمع الزوائد،ص: ۲۲۰،ج۱] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی فرمایا کہ’’ جب وضوکرو توبسم االلّٰه پڑھو ۔‘‘ [المطالب العلیہ، ص: ۲۵، ج۱] لیکن اس آخری حدیث کی سند میں حارث نامی راوی ضعیف ہے، تاہم اسے بطور استدلال نہیں بلکہ تائید کے لئے پیش کیا ہے۔ ان احادیث کے پیش نظر وضوکے شروع میں صرف ’’بسم االلّٰه ‘‘ پڑھنا مشروع ہے ۔اختلاف سے دل برداشتہ ہوکر بسم اﷲ کو ترک کردینا زیادہ باعث عافیت نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے ’’مہربان ‘‘نے موقف اختیار کیاہے۔ ہاں، اگربھول کی وجہ سے وضو کے آغاز میں ’’بسم االلّٰه ‘‘ نہیں پڑھی گئی تودوران وضو جب بھی یاد آئے تواسے پڑھا جاسکتا ہے اگروضو مکمل ہونے کے بعد یاد آئے تواس کے بغیر بھی صحیح ہے ۔اسے پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔امام ابوداؤد نے امام احمد سے دریافت کیا کہ جب کوئی وضو میں بسم اللّٰه پڑھنا بھول جائے توکیاحکم ہے آپ نے جواب دیا کہ ’’مجھے امید ہے کہ اس پرکچھ نہیں ہے ۔‘‘ [مغنی لابن قدامہ، ص: ۱۴۶، ج ۱] سوال: ابوداؤد میں لکھا ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت مسح علی الجوربین متصل نہیں ہے، اس روایت کے علاوہ کوئی دوسری روایت جس سے جرابوں پرمسح کرناثابت ہوتو مطلع کریں ؟ جواب: ہم نے اہل حدیث مجریہ ۲۹جون ۲۰۰۱ شمارہ نمبر ۲۴میںجرابوں پرمسح کے متعلق ایک فتویٰ لکھاتھااس میں چاراحادیث کاحوالہ دیاتھا ۔ہم نے یہ بھی لکھا تھا کہ ان احادیث پرکچھ اعتراضات ہیں ۔ہم ان کی وضاحت اورمفصل جواب کسی اورفرصت پراٹھارکھتے ہیں ۔حسن اتفاق کہ اس سلسلہ میں ہی یہ ایک سوال ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت متصل نہیں ہے پہلے ہم اس کاجائزہ لیتے ہیں۔ واضح ہو کہ امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں اس روایت کے متعلق مذکورہ الفاظ بیان نہیں کئے ہیں، بلکہ فرمایا ہے کہ عبد الرحمن بن مہدی اس حدیث کوبیان نہیں کرتے تھے کیونکہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مشہور حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پرمسح کیاتھا۔ [ابوداؤد ،الطہارۃ:۱۵۹] جن حضرات نے اس حدیث پرجرح کی ہے ان کی بنیاد حضرت عبدالرحمن بن مہدی کایہی قول ہے، حالانکہ یہ حدیث صحیح ہے اوراس کے تمام راوی ثقہ ہیں ،امام ترمذی نے اس حدیث کوحسن صحیح کہاہے ۔ [ترمذی ،الطہارۃ:۹۹] امام ترمذی رحمہ اللہ متأخرین سے ہیں، انہوں نے اس حدیث کے متعلق متقدّمین کے اقوال کاجائزہ لینے کے بعد یہ رائے قائم کی ہے اس میں شک نہیں ہے کہ مذکورہ حدیث صحیح الاسناد ہے کیونکہ حضرت مغیرہ سے روایت کرنے والے ہذیل بن شرحبیل ثقہ ہیں، نیز ان کی روایت کوشاذ بھی نہیں کہاجاسکتا ،جیسا کہ عبدالرحمن بن مہدی کے قول سے تاثر ملتا ہے کیونکہ اس کے لئے واقعہ کاایک ہونا ضروری ہے مگر یہاں موزوں پرمسح والی روایت سفر سے متعلق ہے کیونکہ روایت میں اس کی صراحت ہے اورجرابوں میں مسح کی روایت میں سفر وغیرہ کاذکر نہیں ہے، لہٰذایہ دومستقل حدیثیں ہیں، اس بنا پر مذکورہ اضافے کوشاذ یامنکر نہیں کہاجاسکتا ،پھرصحابہ