کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 81
طہارت و وضو سوال: ہم وضو سے پہلے بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے ،اب پتہ چلا ہے کہ صرف بسم اﷲ پڑھنا چاہیے، قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں؟ جواب: پچھلے دنوں ہمارے ایک مہربان نے ’’جدید محققین کرام کی خدمت میں‘‘کے عنوان سے ایک معاصر رسالے میں لکھاتھا کہ کھانے اوروضو سے قبل صرف بسم اﷲ کہے یا بسم اﷲ الرحمن الرحیم پوری پڑھے ؟بعض کافتویٰ بسم اﷲ پڑھنے کاہے ،بعض بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھنے کامشورہ دیتے ہیں اوراس کومستحب بتاتے ہیں ۔مذکورہ صورتحال کے پیش نظر تو کھانے اوروضو سے قبل بسم اﷲ پڑھنے کوسرے سے ہی چھوڑ دینا زیادہ باعث عافیت معلوم ہوتا ہے (تنظیم اہل حدیث مجریہ ۲۵مارچ ۲۰۰۴ء) معزز قارئین! اس سلسلہ میں ہمیں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم اہل حدیث ہیں اوراختلاف کے وقت اﷲ اوراس کے رسول کی طرف رجوع کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں، چنانچہ اس کے متعلق حدیث ہے کہ ’’اس شخص کاوضو نہیں جواﷲ کانام ذکر نہیں کرتا۔‘‘ [ابوداؤد، الطہارۃ: ۱۰۱] یہ حدیث متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے جن کی تعداد نو(۹)تک پہنچتی ہے ۔ہر حدیث کی سند کے متعلق محدثین نے کلام کیاہے، تاہم ان کے مجموعہ سے قوت پیداہوجاتی ہے جواس بات کی دلیل ہے کہ اس کی کوئی نہ کوئی اصل لامحالہ موجود ہے ۔ [تلخیص الحبیر،ص: ۲۵۷،ج۱] علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں سب سے زیادہ قوی حدیث وہ ہے، جسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے۔ [تمام المنہ، ص:۸۹] اب اس با ت کی وضاحت کرناہے کہ وضو کرتے وقت جواﷲکانام ذکرکرنا اس سے مراد بسم اﷲ ہے ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا ہے۔امام ابن السنی نے اپنی تالیف ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘ میں ایک عنوان بایں الفاظ میں قائم کیاہے کہ وضو کرتے وقت اﷲ کانام کیسے لیاجائے، یعنی تسمیہ سے کیامراد ہے؟چنانچہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تَوَضَّؤُوْا بِاسْمِ اللّٰہِ‘‘ یعنی بسم اللّٰه پڑھ کر وضو کرو۔ [عمل الیوم واللیلۃ: حدیث نمبر ۲۷] اس کے علاوہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عملی طورپر صرف ’’بسم االلّٰه ‘‘کہنا ہی ثابت ہے، جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں رکھا، پھرفرمایا ’’بسم االلّٰه اچھی طرح وضو کرو۔‘‘ [مسند امام احمد ،ص۲۹۲ ،ج۳ ] اس سے معلوم ہواکہ وضو کے شروع میں بسم اﷲ کے ساتھ الرحمن الرحیم کے الفاظ ثابت نہیں ہیں، جیسا کہ ذبح کرتے وقت صرف بسم اﷲ کہنا مشروع ہے اورہم اس کے ساتھ الرحمن الرحیم کااضافہ نہیں کرتے اسی طرح وضو کے شروع میں ان الفاظ کونہ پڑھنا ہی قرین قیاس ہے۔ چنانچہ ابن قدامہ لکھتے ہیں کہ تسمیہ سے مراد ’’بسم االلّٰه ‘‘ کہناہے اس کے علاوہ کوئی