کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 78
رشدوہدایت کے سامان سے اس کی تعمیر نہیں کریں گے۔‘‘ [صحیح بخاری تعلیقاً] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ بھی فرمان ہے کہ ’’جوقوم بدعملی کاشکارہوتی ہے وہ مساجد کونقش ونگاری اوربیل بوٹوں سے مزین کرناشروع کردیتی ہے ۔‘‘ [ابن ماجہ: کتاب المساجد ] یہ روایت اگرچہ سندًا ضعیف ہے، تاہم تائید کے لئے اسے پیش کیاجاسکتا ہے ۔مسجد کومضبوط اورخوبصورت توضرور ہونا چاہیے لیکن نقش ونگار اورمیناکاری سے دور رکھنا چاہیے ۔خاص طورپر محراب والی دیوار پربیل بوٹے یاشیشہ لگانا جس سے نمازی کی توجہ دوسری طرف لگ جائے سخت معیوب ہے ۔ سوال: (۱) کیاقرض کی رقم سے مسجد تعمیر کی جاسکتی ہے، نیز کیازکوٰۃ کی رقم سے مسجد میں چندہ دیاجاسکتا ہے ؟ (۲)اگرحکومت وقت غیرشرعی ہوتو کیا زکوٰۃ کی ادائیگی ساقط ہوجاتی ہے یا ہرفرد کواپنی اپنی زکوٰۃ خود ادا کرناپڑے گی؟ (۳)کافر اورفاسق کوزکوٰۃ نہیں دی جا سکتی، نیز طاقتور اورغنی کوبھی زکوٰۃ دینامنع ہے اورجو۱۲۰روپیہ یومیہ کماتا ہے کیااسے بھی زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی؟ جواب:1۔ اگراہل مسجد اس پوزیشن میں ہیں کہ آیندہ حالات میں چندہ جمع کرکے اپنی گرہ سے قرض اتارسکتے ہیں تووقتی طورپر قرض لے کر مسجد تعمیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اگران حضرات کی مالی پوزیشن کمزور ہوتو دوسرے مسلمانوں سے تعاون لیاجاسکتا ہے، نیزاگر اہل مسجد خود زکوٰۃ کے حقدار ہیں توایسے لوگوں کی مسجد مال زکوٰۃ سے تعمیر کی جاسکتی ہے، بصورت دیگر زکوٰۃ کی رقم مسجد پرلگانے سے پرہیز کرناچاہیے اسے اہل مسجد کواپنی گرہ سے تعمیر کرناچاہیے۔ 2۔ حکومت وقت اگرغیر شرعی ہوتو اس سے زکوٰۃ ساقط نہیں ہوتی، جیساکہ دیگر فرائض کی ادائیگی ضروری ہے، اسی طرح فریضہ زکوٰۃ بھی اداکرنا ضروری ہے، خواہ وہ انفرادی طورپر ہو۔ 3۔ اگر۱۲۰روپیہ یومیہ کمانے سے گھر کانظام نہیں چلتا کیونکہ افراد خانہ زیادہ ہیں اس یومیہ مزدوری سے اگر کسی کی گھریلو ضروریات پوری نہیں ہوتیں توایسے غریب شخص کے ساتھ مال زکوٰۃ سے تعاون کیا جاسکتا ہے ۔ سوال: ایک آدمی اپنی ذاتی جگہ پر مسجد بناتا ہے لیکن اسے وقف نہیں کرتا ،کیا ایسی مسجد میں نماز پڑھنا درست ہے، قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت کریں؟ جواب: مسجد کے لوازمات میں سے ہے کہ اس میں نماز باجماعت اورجمعہ وغیرہ کی ادا ئیگی کااہتمام ہو۔بوقت نماز ہر کلمہ گو مسلمان کواس میں نماز پڑھنے کی آزادی ہو ۔اس قسم کی مسجد کاوقف ہوناضروری ہے تا کہ کوئی بھی نمازیوں کے لئے مسجد میں نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ نہ ڈال سکے ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے توسب سے پہلے اﷲ کاگھر تعمیر کرنے کی طرف توجہ دی ۔اس کے لئے ایک جگہ کا انتخاب کیا گیا اوراس جگہ کے مالکان بنونجار سے فرمایا کہ ’’تم اس جگہ کی قیمت وصول کرکے اسے ہرقسم کے بارملکیت سے مبرا کرو۔‘‘ انہوں نے بڑی فراخ دلی سے عرض کیا ہم اس کی قیمت اﷲ تعالیٰ سے اجروثواب کی صورت میں وصول کریں گے، اس طرح جب وہ زمین وقف ہوگئی توپھر آپ نے وہاں مسجد تعمیر فرمائی۔ [صحیح بخاری ،الوصایا:۲۷۷۴] ویسے غیر وقف شدہ مسجد میں نماز ہوجاتی ہے لیکن شرعی مسجد کے احکام وقف کے بعد لاگو ہوں گے ۔ [واﷲ اعلم بالصواب]