کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 77
بڑھاناچاہیے ۔ان تمہیدی گزارشات کے بعد سوالات کاجواب حسب ذیل ہے: جب زکوٰۃ حقدار کوپہنچ جائے تو اس کی زکوٰۃ والی حیثیت ختم ہوجاتی ہے اورجسے زکوٰۃ دی گئی ہے، وہ اسے جہاں چاہے استعمال کرسکتا ہے، چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’جب صدقہ کی حیثیت تبدیل ہوجائے‘‘ اس کے تحت انہوں نے دواحادیث ذکرکی ہیں ۔ سوال: ایک دفعہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اورفرمایا کہ ’’کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ عرض کیا کہ حضرت نسیبہ رضی اللہ عنہا نے کچھ بھیجا ہے جواسے بطورصدقہ دیا گیا تھا، آپ نے فرمایا:’’وہ اپنی جگہ پرپہنچ چکاہے۔‘‘ [صحیح بخاری ، الزکوٰۃ : ۱۴۹۴] مطلب یہ تھا کہ اس گوشت کااستعمال اب ہمارے لئے بھی جائز ہے ۔ جواب: لوگ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کوصدقہ کاگوشت دے جاتے تھے ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’یہ گوشت اس کے لئے صدقہ ہے اورہمارے لئے ہدیہ ہے۔‘‘ [صحیح بخاری ،الزکوٰۃ :۱۴۹۵] امام بخاری رحمہ اللہ نے ان احادیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ جب صدقہ کی حیثیت تبدیل ہو جائے تو اس کی ایک ذاتی حیثیت بن جاتی ہے، اسے کسی جگہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ صورت مسؤلہ میں مدرسہ کی جگہ اورتعمیر مال زکوٰۃ سے ہوتی ہے وہاں نماز پڑھنے یامسجد تعمیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، احباب جماعت میں سے متمول حضرات کوچاہیے کہ وہاں مسجد تعمیر کریں ،جب تک مسجد کاکوئی بندوبست نہیں ہوتا مدرسہ کی عمارت میں سپیکر نصب کرکے اذان دیناشروع کردیں اورنماز باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کریں ۔ [و اﷲاعلم بالصواب] سوال: مساجد میں نقش ونگار کرناجائز ہے یا نہیں ؟قرآن وحدیث کے مطابق جو اب دیں ؟ جواب: واضح رہے کہ مساجد میں اس طرح کی میناکاری اورنقش ونگار ی جونماز پڑھتے وقت نمازی کے لئے خلل اندازی کاباعث ہو،درست نہیں ہے ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی زیب وزینت کواچھی نگاہ سے نہیں دیکھا، چنانچہ آپ نے ایک دفعہ منقش چادر میں نماز ادا کی تو بعد میں فرمایا: ’’اسے واپس کردو کیونکہ اس کے نقش ونگار کی وجہ سے میری توجہ ہٹ جانے کااندیشہ ہے۔ ‘‘ [صحیح بخاری، الصلوٰۃ: ۳۷۴] اس حدیث کے تحت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ہر وہ چیز جونماز ی کے لئے دوران نماز توجہ ہٹانے کاباعث بنے مکروہ اورناپسندیدہ ہے، جیسا کہ نقش ونگار وغیرہ۔ [فتح الباری، ص:۴۸۳ج۱] مساجد کی زیب وزینت اورنقش و نگاری کی مذمت کے متعلق کئی ایک احادیث میں صراحت کے ساتھ اسے علامات قیامت قرار دیتے ہوئے اس سے آپ نے منع فرمایا ہے، خاص طور پر جب ایسی چیزیں فخر ومباہات کاذریعہ بن جائیں۔چنانچہ حدیث میں ہے: ’’مجھے اس بات کاحکم نہیں دیا گیا کہ مساجد کوچوناگچ کروں یاانہیں نقش ونگار سے آراستہ کروں۔‘‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ’’تم اپنی مساجد کویہودونصاریٰ کی طرح خوب میناکاری سے آراستہ کروگے۔‘‘ [صحیح ابن حبان:۴/۷۰] ایک اورحدیث میں ہے کہ لوگوں پر ایسا وقت ضرور آئے گا کہ ’’وہ اپنی مساجد کوفخر ومباہات کاذریعہ بنائیں گے ،نماز اور