کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 76
سوال: کسی پرائیویٹ پارٹی نے کچھ زرعی رقبہ خریدا تاکہ اسے رہائشی پلاٹوں کی صورت میں آگے فروخت کیا جائے ،اس میں بچوں کے کھیلنے کے لئے ایک پارک بھی چھوڑاگیا، اب وہاں آبادی ہوچکی ہے۔ اہل محلہ نے مذکورہ پارک کے ایک کونہ میں (جو کہ ایک تکون سی بننے کی وجہ سے پارک کے استعما ل میں نہ تھا) ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کی ہے جس کی چار دیواری تقریباًمکمل ہوچکی ہے اور معاملہ چھت تک پہنچ چکاہے، اب کچھ حضرات کاکہنا ہے کہ اس جگہ مسجدنہیں بن سکتی، کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں؟ جواب: واضح رہے کہ رائج الوقت قانون کے مطابق یہ ضروری ہے کہ اگر کوئی پارٹی کسی زرعی یابے آباد زمین کو رہائشی پلاٹوں کی صورت میں فروخت کرناچاہتی ہے توسب سے پہلے مجوزہ کالونی کانقشہ متعلقہ محکمہ کوپیش کردے۔ اس نقشہ میں سڑکوں،سکول، پارک اورمسجد کاہوناضروری ہے ۔کیونکہ ان تمام چیزوں کاتعلق مشترکہ مفاد عامہ سے ہے۔ صورت مسؤلہ میں سڑکوں اورپارک کے لئے توجگہ چھوڑدی گئی ہے لیکن مسجد کے لئے جگہ نہ چھوڑکر مالکان نے مذہب کے ساتھ اپنی ’’وابستگی‘‘ کوظاہر کیاہے ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے توانہوں نے اپنی رہائش سے پہلے مسجد بنانے کوترجیح دی تاکہ امت کویہ سبق دیا جائے کہ رہائشی منصوبے میں مسجد کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم نام نہاد مسلمان چند ٹکوں کے لالچ میں اس اہم معاملہ کی طرف توجہ نہیں دیتے ۔مسجد بھی ایک مشترکہ مفاد ہے کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی ،اب چونکہ وہاں اہل محلہ کو خیال آیا ہے کہ یہاں مسجد کاہوناضروری ہے تومجوزہ جگہ پرمسجد تعمیر ہوسکتی ہے کیونکہ وہ جگہ پارک کے استعمال میں نہیں آسکتی ،لیکن پیش بندی کے طورپر ایک بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ وہاں مسجد توایک ہی تعمیر ہوگی ،موجودہ مذہبی تکدر کے پیش نظر اسے اکھاڑانہ بنایا جائے اورنہ ہی اسے کسی کے لئے ذریعہ معاش بننے دیا جائے بلکہ اہل محلہ آپس میں مل جل کرمسجد کی آبادی کے لئے کسی ایسے معقول مزاج امام کاانتخاب کریں جوسب کے لئے قابل قبول ہواوراسے شروع ہی سے مذہبی چھیڑ چھاڑ سے اجتناب کرنے کی تلقین کردی جائے۔ [واﷲاعلم ] سوال: ہم اپنی کالونی میں ۱۵۔۲۰اہل حدیث ہیں اورہمارے ہاں کوئی مسجد اہل حدیث نہیں ہے۔ پہلے ہم بریلوی حضرات کی مسجد میں نماز پڑھتے تھے، تین سال قبل انہوں نے ہمیں نماز پڑھنے سے روک دیا ،اس کے بعد دیوبند حضرات کی مسجد تعمیر ہوئی توہم ان کی مسجد میں نماز اداکرتے رہے اوردھیمی آواز سے آمین کہتے رہے ،اس کے باوجود بھی انہیں تکلیف تھی ،ایک دن ہم نے آمین کہی توامام مسجد نے نماز توڑ کرمقتدیوں کی طرف منہ کرکے کہا’’خنزیرو!تمہیں کیا تکلیف ہے ‘‘اس وقت سے اہل حدیث الگ نماز پڑھتے ہیں، ہمارے ہاں اہل حدیث کاایک مدرسہ ہے جوزکوٰۃ وخیرا ت سے تعمیرکیاگیا ہے ،اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم ا س مدرسہ میں نماز پڑھ سکتے ہیں اورسپیکر میں اذان دے سکتے ہیں یامدرسہ کی دوسری منزل پرمسجدتعمیر کرسکتے ہیں؟ جواب: دیوبندی حضرات کی طرف سے اہل حدیث حضرات کو کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ بہت متعصب ہیں اور رواداری سے کام نہیں لیتے ہیں۔ ہم نے پوراسوال اس لئے درج کیاہے تاکہ دیو بندی حضرات کااہل حدیث لوگوں کے متعلق رویہ سامنے آ جائے۔ کیا وزیرآباد کی جماعت مسجد کی تعمیر میں فعال نہیں ہے۔ کیا مسلک کی حمایت میں بے چارے اہل حدیث کا تعاون نہیں کیاجاسکتا، جنہیں ایک سنت پرعمل کرنے کی پاداش میں خنزیرتک کہاجاتا ہے۔ مرکز اہل حدیث کو بھی ایسے لوگوں کے ساتھ دست تعاون