کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 73
ایمان کوبڑی حقار ت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’کیاتم نے حاجیوں کوپانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد کرنے کواس شخص کے کام کے برابر قرار دیا ہے جواﷲ تعالیٰ پرایمان لائے اورآخرت پریقین رکھے اوراﷲ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرے اﷲ تعالیٰ کے ہاں یہ برابر نہیں ہوسکتے ۔‘‘ [۹/التوبہ:۱۹] اﷲ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر ان کادعویٰ تولیت مسترد کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ مشرک مسجد حرام کے متولی نہیں ہیں، اس کے متولی تووہی ہوسکتے ہیں جوتقویٰ شعار ہیں۔‘‘ [۸/الانفال:۳۴] ان آیات اوردیگر حقائق کی روشنی میں تولیت کی درج ذیل شرائط ہیں : ٭ تقویٰ شعاری اورپرہیزگار ی اس کی بنیادی شرط ہے متولی کوپرہیزگار اورتقویٰ شعار ہوناچاہیے۔ ٭ مساجد دینی معاملات کی بجاآوری کے لئے بنائی جاتی ہیں، اس لئے متولی مسجد کاصاحب علم اورمعاملہ فہم ہونا ضروری ہے ۔ ٭ مسجد میں ہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، اس لئے متولی کومستقل مزاج اوربردبارہوناچاہیے۔ ٭ اخراجات کے سلسلہ میں امانت دار ہواوراپنی جیب سے خرچ کرنے کاعادی ہو۔ ٭ ذاتی طورپراثر ورسوخ والاہو، تا کہ مسجد کے نظام میں رکاوٹ ڈالنے والوں سے نمٹاجاسکے ۔ چونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد نبوت اورخلفائے راشدین کے دورخلافت میں بیت المال کی بنیادیں مضبوط تھیں۔ مسجد کا نظام چلانے کے لئے چندہ وغیرہ کی تحریک نہیں چلائی جاتی تھی، اس کے علاوہ سادہ سی مسجد بناکر رشدوہدایت پھیلانے کاکام شروع کر دیا جاتاتھا، امامت وخطابت کے فرائض خودرسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے بعد خلفائے راشدین سرانجام دیتے تھے،اس لئے مسجد کانظام چلانے میں کوئی دشوار ی پیش نہ آتی تھی ۔جب سے اہل ثروت حضرات نے مساجد پرخرچ کرنے کواپنے لئے فخر و مباہات کاذریعہ بنایا ہے اور اہل علم حضرات نے خطابت وامامت کوایک پیشے کی صورت قرار دے لیا ہے اس وقت سے مساجد کاداخلی اورخارجی نظام درہم برہم ہوچکا ہے، آج بھی اگر مساجد کاداخلی نظام اہل علم کے پاس ہواوراخراجات کی ذمہ داری مال دار حضرات قبو ل کرلیں توتولیت مساجد کے متعلق وہ سوالات پیدانہیں ہوں گے جوسائل نے اپنے سوال میں اٹھائے ہیں ۔اس وضاحت کے بعد ہم کہتے ہیں کہ تولیت مسجد نہ بدعتی کردار ہے اورنہ خطیب اورامام سے اونچاعہدہ ہے، نیز خلفائے راشدین خود ہی مسجد نبوی کے خطیب اورامام تھے اوراس کی تولیت بھی انہی کے پاس تھی، یہ تولیت دنیاوی طور پر باعث فخر ومباہات نہیں بلکہ یہ حضرات اپنے لئے ذریعہ نجات خیال کرتے ہوئے اسے سرانجام دیتے تھے ۔ سوال: ایک آدمی نے اپنی زندگی میں تقریباً دوکنال قطعہ اراضی زبانی طورپر مسجد کے لئے وقف کی لیکن قانونی طورپر وقف نامہ لکھنے سے پہلے وہ فوت ہوگیا۔ اس کے بیٹے نے وہ موقوفہ زمین کسی دوسرے شخص کوفروخت کردی ،اس کی قیمت وصول کرکے خریدار کے نام رجسٹری کرادی ،اب مسجد کی انتظامیہ اورخریدار کا باہمی تنازعہ پیدا ہوا ،مسجد والے کہتے ہیں کہ فروخت کردہ زمین مسجد کے لئے وقف ہے، جبکہ خریدار کادعویٰ ہے کہ میں نے اسے رقم صرف کرکے خریدا ہے اورمیرے نام رجسٹری ہے ۔پنچائتی فیصلہ یہ ہوا کہ خریدار ،مسجد کوموجود ہ زمین سے نومرلے دے گااوروضو خانہ، باتھ وغیرہ بھی تعمیر کرادے گا ،فریقین اس پر راضی ہوگئے اوراس پر