کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 72
ہے کہ ’’مشرق ومغرب کے درمیان قبلہ ہے۔‘‘ [ترمذی، الصلوٰہ: ۳۴۲] اس حدیث سے نقطہ مشرق ومغرب کی درمیانی قوس، یعنی نصف دائرہ کی مقدا رکے متعلق جہت قبلہ ہونے کادعویٰ کیا جاسکتا ہے لیکن محققین امت نے اس حدیث کو عرف عام پرمحمول کر کے مشرق ومغرب سے مشرق ومغرب کی جہت کومراد لیا ہے۔ فقہاء نے اس کی تفصیل یوں کی ہے کہ اگر نمازی کی پیشانی کے درمیان سے خط مستقیم نکل کرعین کعبہ پرگزرے تویہ قبلہ مستقیم ہے اگر پیشانی کے درمیان سے نکلنے والا خط عین کعبہ پر نہیں پہنچتا لیکن پیشانی کے دائیں بائیں اطراف سے کوئی خط عین کعبہ پرپہنچے تواس قدر انحراف قلیل ناقابل التفات ہے اور علمائے ہیئت نے انحراف قلیل کی تعیین اس طرح کی ہے کہ۴۵درجہ تک انحراف ہوتو قلیل بصورت دیگر انحراف کثیر ہے جوقابل التفات واعتراض ہے کیونکہ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے اعتبار سے لوگوں کی مثال ایسے ہے جیساکہ مرکز کے گرد دائرہ ہوتا ہے اورکسی بھی دائرہ کاپھیلاؤ اوراتساع اپنے مرکز ۴/۱دائرہ تک ہوسکتا ہے اس سے زیادہ نہیں ہوتا ، اس بنا پر دائرہ کے ربع تک انحراف ہویعنی کعبہ سے ۴۵درجہ دائیں جانب اور۴۵درجہ بائیں جانب انحراف کاجواز ہے واضح رہے کہ کسی بھی دائرہ کاچوتھائی حصہ نوے درجہ تک ہوتا ہے ۔اسے دائیں بائیں تقسیم کرکے ۴۵،۴۵درجہ رکھاگیا ہے ۔تعیین قبلہ کے متعلق ایک سادہ طریقہ یہ ہے جسے ماہرین نے بیان کیاہے کہ سال میں دومرتبہ نصف النہار کے وقت سورج عین بیت اﷲ کے اوپر ہوتا ہے۔ اوروہ دن ۲۷مئی اور۱۶جولائی ہیں ۔آفتاب کے نصف النہار مکہ پرپہنچنے کا ہمارے ہاں ۲۷مئی کو۲بجکر ۱۷منٹ اور۱۶جولائی کو۲بجکر ۲۶منٹ ہے ان اوقات میں عمود کاسایہ قبلہ پر ہوگا، دھوپ میں کسی بھی وزن دادرسی کوان اوقات میں لٹکا کرسمت قبلہ کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ علامہ مقریزی نے لکھا ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مصر اور دوسرے شہروں میں اس طرح موٹے موٹے آثار ونشانات کے ذریعے تحری کرکے سمت قبلہ کاتعین کیااور مساجد تعمیر کرائیں اورعام مسلمانوں نے ان کااتباع کیا۔ البتہ مصر کے فرماں روا احمد بن طولون نے جب مصر میں جامع مسجد کی بنیا دڈالی تواس نے مدینہ طیبہ بھیج کر مسجد نبوی کی سمت قبلہ دریافت کرائی اوراس کے مطابق مسجد بنائی جوفاتح مصر حضرت عمروبن العاص کی جامع مسجد سے کسی قدر منحرف ہے لیکن علما نے جامع مسجد عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کے اتباع کواولیٰ قرار دیا ہے اوراطراف مصر کی مساجد اسی کے مطابق ہیں، واضح رہے کہ امیر مصر نے جب ماہرین کے ذریعے آلات ریاضیہ سے مسجد نبوی کی سمت قبلہ کوجانچاتو معلوم ہوا کہ آلا ت کے ذریعے نکالے ہوئے خط سمت قبلہ سے مسجد نبوی کی سمت قبلہ دس درجہ مائل بجنوب ہے، حالانکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمت قبلہ کی تعیین بذریعۂ وحی فرمائی تھی، اس لئے مسجد نبوی کی سمت قبلہ کے عین مطابق تھی اوران ماہرین کاآلات کے ذریعے اندازہ غلط تھا۔ اس لئے ایسے معاملات میں زیادہ باریک بینی سے کام نہ لیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے بعض اوقات اپنے اسلاف سے بدگمانی پیداہوتی ہے۔ [واﷲ اعلم ] سوال: اسلا م میں متولی مسجد کے عہدے کاکیامقام ہے، کیایہ ایک بد عتی کردارہے یاامام اورخطیب سے اونچا ہے، جب خلفائے راشدین مسجدنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب تھے تو متولی مسجد کون ہوتا تھا؟ جواب: مسجد سے متعلقہ ضروریات کی فراہمی کاانتظام وانصرام کرنا تولیت کہلاتا ہے ۔قرآن مجیدنے مشرکین مکہ کاذکرکرتے ہوئے ان کی تولیت مسجد حرام پرتبصرہ کیاہے کہ انہیں حجاج کرام کوپانی پلانے اوردیگر امور مسجد بجالانے پر بڑاناز تھا۔ وہ اس بنا پر اہل