کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 71
مساجد و اوقاف سوال: ہمارے ہاں جوقدیم مساجد تعمیر شدہ ہیں، ان کی سمت قبلہ کی تعیین کے متعلق اکابر اہلحدیث نے بڑی محنت اورجانفشانی سے کام لیاتھا جبکہ آج کل ہمارے کچھ نوجوانوں کے ہاتھ بیرون ملک سے درآمد کردہ جائے نماز آئے ہیں جن پر قبلہ نمانصب ہے۔ جدید قبلہ نماکے مطابق پہلے تعیین کردہ سمت قبلہ میں کہیں کم اورکہیں زیادہ فرق ہے ،اس وجہ سے جماعتی احباب تذبذب کاشکار ہیں براہِ کرم اس سلسلہ میں کتاب سنت سے ہماری راہنمائی فرمائیں؟ جواب: واضح رہے کہ دین اسلام کے تمام احکام کی بنیاد یسر و سہولت اورسادگی وبے تکلفی ہے کیونکہ شریعت کادائرہ حکومت تمام جہان کے بحروبر اورشہری ودیہاتی آبادیوں پرحاوی ہے۔ اسلامی فرائض کی ادائیگی جس طرح شہریوں پرعائد ہے اسی طرح دیہاتیوں اورپہاڑوں کے رہنے والے ناخواندہ حضرات پربھی ہے، اس لئے جواحکام اس حدتک عام ہوں ان کے متعلق رحمت وحکمت کاتقاضا ہے کہ انہیں جدید آلات پرموقوف نہ رکھاجائے تاکہ ہرخاص وعام انہیں بآسانی سرانجام دے سکے ۔اس ضروری تمہید کے بعد نماز پڑھتے وقت قبلہ کے متعلق بھی شریعت نے آسان اورسادہ طریقہ ہی اختیار فرمایا ہے جسے ہرشہری اور دیہاتی بسہولت عمل میں لاسکے، چنانچہ اس کے متعلق ہمارے اسلاف کا طرزعمل حسب ذیل ہے : ٭ سمت قبلہ کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’’ نمازکے وقت تم اپنے چہروں کومسجد حرام کی طرف کرو‘‘۔ [۲/البقرہ:۱۴۴] اس آیت کریمہ میں بیت اﷲ کے بجائے مسجد حرام کی طرف منہ کرنے کاحکم دیا ہے جوکہ بیت اﷲ سے زیادہ وسیع ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں استقبال قبلہ کے متعلق شریعت نے تنگی کے بجائے وسعت کوپیش نظررکھا ہے ،چنانچہ اس بات پر اتفاق ہے کہ مسجد حرام کے بعد سب سے پہلی مسجد جواسلام میں بنائی گئی وہ مسجد قبا ہے۔ اس مسجد کی بنیاد اس وقت رکھی گئی تھی جبکہ مسلمانوں کاقبلہ بیت المقدس تھا، پھر جب تحویل قبلہ کی آیات نازل ہوئیں تواس کی خبر لے کر مسجد قبا میں ایک صحابی اس وقت پہنچا جب صبح ہو رہی تھی۔ انہوں نے دوران نماز ہی تحویل قبلہ کی خبردی توامام اورپوری جماعت بیت اللہ کی جانب پھر گئی۔ [صحیح بخاری ،الصلوٰۃ :۴۰۳] اس واقعہ کی اطلاع رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوہو ئی توآپ نے ان حضرات کے اس فعل کی تصویب فرمائی اب ظاہر ہے کہ حالت نماز میں اہل قبا نے جو سمت قبلہ اختیار کی اس میں اس قسم کے آلات کاقطعاًکوئی دخل نہ تھا بلکہ انہوں نے اپنے ظن غالب کے مطابق تحری وکوشش کر کے سمت قبلہ کواختیار کیا ۔نماز کے بعد بھی انہوں نے اس ظن وتخمینہ کے علاوہ کوئی طریقہ اختیار نہیں کیا ۔پھر سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت ہرصوبے میں مساجد تعمیرہوئیں اورعمال حکومت نے اس سلسلہ میں کسی قسم کے آلات سمت قبلہ کی تعیین کے لئے استعما ل نہیں کیے بلکہ اس کی تعیین تحری و تخمینہ سے کی گئی ،بلکہ فقہاء ومحدثین کی صراحت کے مطابق اگر کوئی بیت اﷲ کے سامنے نمازاد ا کرتا ہے توا س کے لیے عین قبلہ کی طرف منہ کرنا ضروری ہے جبکہ دوسروں کے لئے عین قبلہ کے بجائے جہت قبلہ ضروری ہے اورجہت قبلہ کی تعیین بھی سادہ طریقہ سے کی جاسکتی ہے ۔چنانچہ مدینہ منورہ اورمکہ مکرمہ سے دوسرے شمالی علاقوں کے لئے ارشاد نبوی