کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 68
[اللالی الموضوعۃ: ۱/۲۷۲] امام جوزی رحمہ اللہ اس طویل روایت کوبیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ اس روایت کے خودساختہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ کیونکہ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن کے متعلق کوئی اتاپتا نہیں ہے اورکچھ ایسے راوی ہیں جوضعیف ہیں۔ اس کے بعد یحییٰ بصری کے متعلق امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کاقول نقل کرتے ہیں کہ ہم نے یحییٰ بصری کی بیان کردہ روایا ت کوجلا دیا تھا۔ [کتاب الموضوعات :۲/۲۸۹] امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ یہ محدثین کے ہاں متروک ہے ۔مختصر یہ ہے کہ مذکورہ روایت بناوٹی اورخود ساختہ ہے، نیز اس طرح کی روایت حقیقت حال کی وضاحت کے لئے تو بیان کی جاسکتی ہیں لیکن فضائل اورسیرت کے سلسلہ میں ان کاسہارا لینا ناجائز اورحرام ہے ۔ہمارے واعظین حضرات کواس طرح کی روایات بیان کرنے سے احتراز کرناچاہیے۔ سوال: ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی کونبی مانتاہے، اس کاکہنا ہے کہ اگر اسے یقین ہوجائے کہ حضر ت عیسیٰ علیہ السلام کوموت نہیں آئی اورنہ ہی وہ سرینگر میں مدفون ہیں تو وہ مرزاقادیانی کی نبوت سے تائب ہو جائے گا۔ آپ سے حیات مسیح کے دلائل درکار ہیں، نیز جواب دیتے وقت سورۂ نساء کی آیت نمبر: ۱۵۷، ۱۵۸، ۱۵۹، کوضرور مدنظر رکھیں؟ جواب: حیات مسیح اورنزول مسیح علیہ السلام کاعقیدہ ہمارے ہاں بنیادی عقائد سے ہے جس کی بنیاد قرآنی آیات اور متعدد احادیث ہیں۔جومعنوی طور پر حدِتواتر کوپہنچتی ہیں ۔ہمارا کام اس عقیدہ پردلائل مہیا کرنا ہے انہیں قابل یقین بناکرکسی کے دل میں اتارنا یہ اﷲ تعالیٰ کاکام ہے۔ واضح رہے کہ حیات عیسیٰ اورنزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ پر امت کااجماع ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اﷲ تعالیٰ میری امت کوگمراہی پرکبھی جمع نہیں کرے گا۔‘‘ [مستدرک :۱/۱۱۶] اﷲتعالیٰ نے رفع عیسیٰ اورنزول عیسیٰ علیہ السلام کوقرآن پاک میں بایں الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’اوروہ یہود یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے اﷲ تعالیٰ کے رسول مسیح عیسیٰ ابن مریم کوقتل کرڈالا ہے، حالانکہ انہوں نے اسے نہ قتل کیا اورنہ سولی پرچڑھا یا بلکہ یہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ ہوگیا اوریقیناجن لوگوں نے اس معاملہ میں اختلاف کیا وہ خود بھی شک میں مبتلا ہیں انہیں حقیقت کاکچھ علم نہیں ہے وہ محض ظن کی اتباع کرتے ہیں اوریقینا وہ انہیں قتل نہیں کرسکے تھے ۔بلکہ اﷲ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا تھا اوراﷲ زور آور اورحکمت والا ہے اورتمام اہل کتا ب ابن مریم کی مو ت سے پہلے ضرور اس پر ایمان لائیں گے اورقیامت کے دن وہ ابن مریم ان کے خلاف گواہی دیں گے۔‘‘ (۴/النسآء: ۱۵۷، ۱۵۸، ۱۵۹) ان آیات میں صراحت ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کواپنی طرف اٹھالیا ہے اورقیامت کے نزدیک جب آپ نزول فرمائیں گے توآپ کی شان وشوکت کودیکھ کریہود کوبھی اعتراف کرنا پڑے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واقعی اﷲکے رسول تھے ۔انہوں نے ولد الحرام ہونے کا جوالزام لگایا تھا وہ غلط تھا، نیز ان کایہ گمان کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کومارڈالاہے غلط ثابت ہوجائے گا ۔ حیات عیسیٰ اورنزول عیسیٰ علیہ السلام کاعقیدہ متعدد احادیث سے بھی ثابت ہے، چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے! عنقریب تم میں ابن مریم عادل حکمران کی حیثیت سے نازل ہوں گے، وہ صلیب