کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 61
دیاجاسکتا ،البتہ جن ممالک میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مشتمل خاکے شائع ہوئے ہیں ان کی مصنوعات کابائیکاٹ کیاجائے اورحکومت پاکستان کوچاہیے کہ ان ممالک سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کرے اوراپنے ملک سے ان کے نمایندوں اور سفیروں کوواپس بھیج دیاجائے ،عوام الناس کوبھی چاہیے کہ اپنے غم وغصہ کااظہار ضرور کریں لیکن توڑپھوڑ اورنعرے بازی کی سیاست محض دکھلاوے کی چیزیں ہیں ان سے قطعی طور پر اجتناب کیا جائے، ایسے کام کرنے سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ اہل اسلام واقعی متشدّد اورتخریب کارہوتے ہیں۔ بعض اوقات تشدد پر مبنی اس قسم کے واقعات ایجنسیوں کے ذریعے سرانجام پاتے ہیں اورانہیں مسلمانوں کے کھاتے میں ڈال دیاجاتا ہے ۔بہرحال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی ایک ناقابل معافی جرم ہے اوراس کے متعلق جس قدر بھی غم وغصہ کا اظہار کیاجائے وہ ہمارے ایمان کاتقاضا ہے لیکن توڑپھوڑسے اجتناب کرناچاہیے۔ سوال: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پردرود و سلام بھیجنے کاکیا طریقہ ہے اوراس کے کیاالفاظ ہیں ،کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درود و سلام کوسنتے اور اس کا جواب بھی دیتے ہیں وضاحت فرمائیں؟ جواب: ہرمؤمن کورسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ایمان کی دولت نصیب ہوئی اورایمان اتنی بڑی نعمت ہے کہ دین ودنیا کی کوئی نعمت اس کامقابلہ نہیں کرسکتی اورنہ ہی کوئی مؤمن اس نعمت کااحسان اتار سکتا ہے، تاہم اﷲ تعالیٰ نے اہل ایمان سے یہ ضرور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے محسن اعظم کی محبت سے سرشار ہوکر اس کے حق میں دعائے رحمت وبرکت ضرور کیا کریں، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اﷲ تعالیٰ اوراس کے فرشتے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہیں اے ایمان والو!تم بھی اس پر درودو سلام بھیجا کرو۔‘‘ [۳۳/الاحزاب : ۵۶] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پرسلام بھیجنے کی بایں الفاظ تعلیم دی گئی : ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ‘‘’’یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم !آپ پراﷲ تعالیٰ کی سلامتی اوررحمت و برکت ہو۔ ‘‘ چنانچہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یارسول اﷲ! آپ پر سلام بھیجنا توہم کومعلوم ہوگیا آپ پردرود کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا یوں کہو’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌo اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ إِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔‘‘ [صحیح بخاری ،الانبیا ء :۳۳۷۰] اس لئے مسنون سلام وہی ہے جوہم تشہد میں پڑھتے ہیں اگر کوئی زیادہ حساس طبیعت کاحامل ہے تو وہ ’’اَلسَّلَامُ عَلٰی النَّبِيِّ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ‘‘کہہ لیا کرے جیسا کہ حضر ت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک بقید حیات تھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خطاب کے صیغہ سے سلام کہتے تھے آپ کے انتقال کے بعد ’’اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ‘‘ کہنے لگے ۔ [صحیح بخاری ، الاستیذان:۶۲۶۵] اور درود بھی مسنون ہی پڑھاجائے جسے درود ابراہیمی کہا جاتا ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درودو سلام کوسنتے نہیں ہیں بلکہ اس کے لئے اﷲ تعالیٰ نے فرشتے تعینا ت کررکھے ہیں جورسول