کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 58
رسالت و ولایت سوال: ’’نمازنبوی صحیح احادیث کی روشنی میں‘‘ نامی کتاب کے ص: ۱۲۷میں لکھا ہے کہ آپ بلحاظ خلقت ’’نور من نور اﷲ‘‘ تھے، اس کی وضاحت کریں؟ جواب: اس کتاب کے حاشیہ میں معجزہ یاکرامت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے نقل کیاہے کہ ایک رات رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر سے اٹھ کرباہر چلے گئے ،امی عائشہ رضی اللہ عنہا بھی ان کے پیچھے باہر نکل گئیں ،آپ نے بقیع الغرقد پہنچ کردعائے مغفرت کی اورواپس آ گئے، امی عائشہ رضی اللہ عنہا آپ سے پہلے بستر پر پہنچ گئیں لیکن سانس پھولی ہوئی تھی ،رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ دریافت کی توآپ نے ٹالنا چاہا، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عائشہ! بتا دو وگرنہ میرااﷲ مجھے بتادے گا۔‘‘ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے ساری بات بتا دی۔ [صحیح مسلم ،الجنائز: ۹۷۴] اس سے معلوم ہوا کہ گھر سے نکلتے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کومعلوم نہ تھاکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کدھر اورکیوں جارہے ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی معلوم نہ ہوا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی میرے پیچھے گئی تھیں؟یہ واقعہ بیان کر نے کے بعد حاشیہ میں لکھا ہے: ’’اس واقعہ سے یہ غلط فہمی بھی دور ہوجانی چاہیے کہ آپ چونکہ بلحاظ خلقت نورمن نوراﷲ تھے، لہٰذا رات کوآپ کی موجودگی میں گمشدہ سوئی بھی نظرآجاتی تھی، چراغ جلانے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی ۔‘‘(نماز نبوی، ص:۱۲۷)اس عبارت میں کوئی الجھن نہیں ہے صرف اسے سیاق وسباق کوساتھ ملاکرپڑھنے کی ضرورت ہے ۔ سوال: ڈنمارک وغیرہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے شائع ہوئے ہیں ،ردعمل کے طور پر پوری امت مسلمہ میں اضطراب پایا جاتا ہے، کتاب وسنت کی روشنی میں ہمارے لئے کیاہدایات ہیں؟ جواب: ہمارے نزدیک رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرناجزوایمان ہے۔ جس شخص کورسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار اورتعلق خاطر نہیں وہ سرے سے مؤمن ہی نہیں ہے ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے: ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والدین اوراولاد حتی کہ تمام لوگوں سے محبوب نہ ہو جاؤ ں۔‘‘ [صحیح بخاری، الایمان:۱۵] امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیاہے ’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کاحصہ ہے۔‘‘ اس کے برعکس ہروہ قول وعمل اورعقیدہ نواقصِ ایمان سے ہے جورسالت اورصاحب رسالت سے بغض اوران کے متعلق طعن وتشنیع پرمشتمل ہو۔کیونکہ اس سے کلمۂ شہادت کے دوسرے جزو کا انکارلازم آتاہے اورایسا کرنے سے وہ گواہی کالعدم ہوجاتی ہے جس کے ذریعے انسان اسلام میں داخل ہوا تھا۔ ہمارے نزدیک اس انکاروتنقیص کودوحصوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے ۔ ٭ ر سول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذا ت ستو دہ صفات کوہدف تنقید بنانا۔ ٭ آپ کی لائی ہوئی شریعت کے کسی حصہ کاانکاریاا س پرطعن کرنا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کوہدف تنقید بنانے کامطلب یہ ہے کہ آپ کے صدق وامانت اورعفت وعصمت کے متعلق حرف