کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 51
آیات لکھ کراستعمال کرنے کے متعلق ہمارے اسلاف میں اختلاف رہاہے۔ لیکن ہمارے اس پر فتن دور میں تواس کے متعلق بہت افراط وتفریط سے کام لیاجاتاہے ،بعض قائلین اورفاعلین تواسے کاروبار کے طور پراپنائے ہوئے ہیں اوراس کاروبار کوجائز قرار دینے کے لیے قرآن وحدیث سے دلائل بھی کشید کرتے ہیں، جبکہ اس کے مانعین ومتشدّدین قرآنی تعویذات کوبھی شرکیہ قرار دے کر انتہاپسندی کاثبوت دیتے ہیں ۔ہمارے نزدیک ایسے حالات میں دم سے بڑ ھ کر اورکوئی نسخۂ کیمیا نہیں ہے کیونکہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم خودایسا کرتے تھے اگرکوئی خوددم نہ کرسکتاہوتوکسی سے دم کرایا جاسکتاہے ۔اگر دم کرانے کے بھی مواقع میسرنہ ہوں توقرآنی تعویذات کوعمل میں لایاجاسکتا ہے بشرطیکہ اسے کاروبار یامعمول نہ بنایا جائے ،چونکہ ضرورت مند مجبور ہوتا ہے اگر ایسے حالات میں اس کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے تواندیشہ ہے کہ وہ دین ودنیا لوٹنے والوں کے ہتھے چڑھ جائے گا۔ اس قسم کی شدید مجبوری کے پیش نظر اگرتعویذ دینے والاشفا منجانب اﷲ کاعقیدہ رکھتے ہوئے اورحاجت مند کواﷲ تعالیٰ پراعتماد ویقین کی تلقین کرتے ہوئے قرآنی تعویذ دیتاہے توامید ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے ہاں باز پرس نہیں ہوگی اگر چہ بہتر یہی ہے کہ وہ خود دم کرے یا کسی سے دم کرانے کو ہی کافی سمجھے ۔ [واﷲ اعلم بالصواب ] سوال: ایک نمازی آدمی ثواب کی نیت سے لوگوں کی چوری شدہ چیزوں کی نشاند ہی کرتا ہے، وہ اس طرح کہ کسی بچے کے ناخن پرسیاہی لگادیتا ہے، پھرعملیات کے ذریعہ اس سے سوالا ت کرتا ہے، اس کے متعلق ہماری راہنمائی کریں؟ جواب: شرعاً ایسا کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ غیب کی خبریں دینا شیطانی عملیات سے ہوتا ہے ،حدیث میں ہے کہ ’’جوشخص کسی نجومی یاعرّاف کے پاس گیا اوراس کے قول کی تصدیق کی تواس نے ان تعلیمات کاانکار کردیا جورسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہوئی ہیں۔‘‘ [مسند امام احمد، ص:۴۲۹ج۲] ’’عرّاف ‘‘وہ شخص ہے جوخفیہ باتوں کاسراغ لگائے اورقرائن وشواہد سے ان کے معلوم کرنے کادعویٰ کرے۔ چوری اورگمشدہ چیز کی نشاندہی کرنااسی قسم سے ہے ان حضرات کی اکثرباتیں جھوٹ پرمبنی ہوتی ہیں۔ ظن وتخمین سے اپنادعویٰ مضبوط کرتے ہیں۔ ان کا طریقۂ واردات بہت عجیب ہوتاہے کبھی دھاگہ یاکپڑا پیمائش کرتے ہیں ،کبھی لوٹاوغیرہ گھماتے ہیں ،بعض اوقات پیالے میں پانی بھر کردیکھتے ہیں ،ناخن پرسیاہی لگا کر چوری تلاش کرنے کا بھی دعویٰ کرتے ہیں، ایسا کرنے والا، خواہ کتنا ہی پرہیز گار کیوں نہ ہو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ [واﷲ اعلم] سوال: کیاہمیں اپنے گناہوں کی اﷲ تعالیٰ سے معافی مانگتے وقت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کاواسطہ دیناچاہیے؟ جواب: وسیلہ اس سبب کوکہتے ہیں جومطلوب تک پہنچائے ،وسیلہ کی دواقسام ہیں : (الف) وسیلہ تکوینی: اس سے مراد وہ طبعی سبب ہے جواپنی فطرت کے اعتبار سے مقصود تک پہنچائے، مثلاً: پانی انسان کو سیراب کرنے کاوسیلہ ہے، اسی طرح سواری ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کاوسیلہ ہے۔ یہ قسم مؤمن اورمشرک کے مابین مشترک ہے۔ (ب) وسیلہ شرعی :اس سے مراد وہ شرعی سبب ہے جواس طریقہ کے مطابق منزل مقصود تک پہنچائے جسے اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یا اپنے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے ذریعے سے مقرر فرمایا ہو۔یہ وسیلہ صرف اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے جیسا کہ صلہ رحمی ،