کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 50
اَب یقین ہوچکاہوگا کہ اسی دنیا وی قبر میں جزاوسزا ملتی ہے ۔ہمارے اس دعویٰ (دنیاوی قبرمیں سزاوجزا ہوتی ہے )کی دلیل یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ قبر ستان کے پاس سے گزرے توفرمایا کہ ’’یہ دونئی قبر یں کن کی ہیں ؟ انہیں سزادی جارہی ہے، ان میں ایک چغلیاں کرتاتھا اوردوسرا اپنے پیشاب سے پرہیز نہیں کرتا تھا، انہیں ان جرائم کی پاداش میں عذاب دیا جا رہا ہے۔‘‘ [صحیح بخاری، الجنائر، ۱۳۷۸] یہ حدیث صریح ہے کہ دنیاوی قبر میں ہی جزاوسزا کاسلسلہ جاری ہوتا ہے کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ٹہنی کے ٹکڑے انہی دنیاوی قبروں پرگاڑ کر فرمایا تھا: ’’امید ہے کہ ان کے خشک ہونے تک اﷲ تعالیٰ ان کے عذاب میں تخفیف کریں گے۔‘‘ جن لوگوں کویہ قبر نہیں ملتی ہے ان کے لیے وہی مقام قبر ہے جہاں ان کے جسم کے ٹکڑے یاریزے پڑے ہیں ۔اس طرح عقل ونقل میں تطبیق ہوجاتی ہے اور ان میں کوئی الجھن باقی نہیں رہتی ۔ سوال: بعض دفعہ ایک شیطانی سوال ذہن میں آجاتاہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمام مخلوق کوپیدا کیا ہے توآخر اﷲ تعالیٰ کوکس نے پیدا کیا ہے ؟اس قسم کے خیالات کوکیونکر دور کیاجاسکتاہے؟ جواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک شیطانی سوال اورگمراہ کن وسوسہ ہے ۔حدیث میں اس کی صراحت ہے جب شیطان اس قسم کے سوالات ذہن میں لائے توانسان کوفورًا اﷲ تعالیٰ کی پناہ میں آجاناچاہیے ۔یعنی ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔‘‘ پڑھنا چاہیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اور اگرتمہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتو فوراًاﷲ تعالیٰ کی پناہ مانگ لیاکرو،وہ سننے والا اورجاننے والاہے۔‘‘ [۴۱/حٰمٓ السجد ہ :۳۶] شیطان کے اس مکرو فریب کو دور کرنے کے لیے ہمیں درج ذیل دعاپڑھنے کی تلقین کی گئی ہے: ’’اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہِ اَللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا اَحَدٌ۔‘‘ ’’میں اﷲ اوراس کے رسولوں پرایمان لایا ،اﷲایک ہے، اللہ بے نیاز ہے ،اس نے کسی کونہیں جنااورنہ وہ کسی سے جناگیا اوراس کاکوئی ہمسر نہیں ہے۔‘‘ واضح رہے کہ ہماری پیش کردہ گزارشات، مسلم، الایمان: ۳۴۳؛ ابو داود، السنۃ: ۴۷۲۲؛ مسند امام احمد، ص ۳۳۱ج:۲ میں آنے والی احادیث کاخلاصہ ہیں۔ سوال: قرآنی و غیر قرآنی تعویذ کے متعلق قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت کریں؟ جواب: شریعت اسلامیہ نے روحانی اورجسمانی مصائب وآلام سے شفایابی کے لیے دم کرنے اور دم کرانے کوجائز قرار دیا ہے اوراس کی ترغیب دی ہے۔ اس کے متعلق بہت واضح اورصحیح احادیث منقول ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم خود بھی دم کرتے تھے اوراپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوبھی اس کی تلقین کرتے تھے، تعویذات لکھ کر لٹکانے یااسے دھوکر پینے کے متعلق رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اجازت قولی یاعملی منقول نہیں ہے، شرکیہ الفاظ یامجہول المعنی کوبطورتعویذ استعمال کرنا کسی صورت میں جائز نہیں ہے، البتہ قرآنی