کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 497
[شعب الایمان، ص: ۲۵۷،ج۴] شعب الایمان کے محشی ڈاکٹر عبدالعلیٰ بن عبدالحمید نے اس کے حاشیہ میں علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ کے حوالہ سے لکھا کہ مذکورہ روایت حضرت علی ،حضرت ابن مسعود ،حضرت معاذبن جبل ،حضرت ابو درداء، حضرت ابوسعیدخدری ،حضرت ابوہریرہ ، حضرت ابوامامہ،حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر ،حضرت عبداللہ بن عمرو،حضرت جابربن سمرہ ،حضرت انس اورحضرت نویرہ رضی اللہ عنہم سے بیان ہے ۔مزیدلکھا کہ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے ان مرویات کے تمام طرق کوجمع کرکے ان پر سیر حاصل بحث کی ہے اوران سب کومعلول قرار دیاہے ۔ [حاشیہ شعب الایمان، ص: ۳۵۴، ج۴] علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ کی ’’العلل المتناہیہ فی الاحادیث الواہیہ‘‘ دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ممدوح بزرگ مولانا سیالکوٹی مرحوم نے پہلی حدیث میں مختلف سندوں سے بیان چاراحادیث کے متن کوجمع کرکے پیش فرمایا ،کیونکہ مذکورہ الفاظ: 1۔ وہ علما کی جماعت میں لکھا جائے گا۔ (حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ) 2۔ اورشہیدوں کے گروہ سے اٹھایاجائے گا۔ (حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما ) 3۔ میں اس کی حشر کے روزشفاعت کروں گا۔ (حدیث ابی الدرداء رضی اللہ عنہ ) 4۔ وہ بہشت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے ۔( حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ )میں موجود ہیں ،لیکن علامہ مرحوم نے ان متعدد متون کوایک متن میں جمع کردیا ۔ہم مولاناکے حق میں دعاہی کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ اپنی رحمت سے نوازے اوران کی لغزشوں اورکوتاہیوں کومعاف فرمائے ۔آمین حدیث ابی الدرداء رضی اللہ عنہ کامتن عام مشہورہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا،علم کی وہ کونسی انتہا ہے کہ وہاں پہنچنے والے کو فقیہ کہا جا سکے؟ توآپ نے فرمایا کہ’’ جس نے میری امت میں سے دینی معاملات سے متعلق چالیس احادیث کویادکیا ہو۔ قیامت کے دن فقیہ کی حیثیت سے اٹھایاجائے گا اورمیں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا اوراس کے عمل پر گواہی دوں گا ۔‘‘ [شعب الایمان، ص: ۳۵۶،ج۴] اس روایت میں ایک راوی عبدالملک بن ہارون ہے جس کے متعلق یحییٰ بن معین لکھتے ہیں کہ کذاب ہے۔ امام ابوحاتم نے اسے متروک کہااور ابن حبان نے اسے احادیث گھڑنے والابتایاہے۔ [الجرح والتعدیل، ص: ۳۷۴،ج۵،میزان الاعتدال، ص: ۷۱،ج۴] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ اس متن سے متعلقہ تمام طرق ضعیف ہیں اوربعض طرق اس قدر کمزور ہیں کہ کثرت کے باوجود ان کی تلافی نہیں ہوسکتی۔ [المقاصد الحسنۃ، ص:۴۱۱] علامہ نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس حدیث کے تمام طرق کمزورہیں اس پرحفاظ حدیث کااتفاق ہے۔ (خطبہ اربعین نووی) اگرچہ ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کے کثرت طرق کے پیش نظراسے درجہ حسن تک پہنچانے کی کوشش کی ہے، لیکن ان کے شدت ضعف کاتقاضاہے کہ بنیادی کمزوری کی وجہ سے اس روایت کوکمزورہی قراردیاجائے۔ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے امام دارقطنی رحمہ اللہ کے حوالہ سے لکھاہے کہ اس روایت سے کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا ہے، لیکن بعض علما نے اس حقیقت سے آشناہونے