کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 496
کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس کے لئے حسب ذیل شرائط ہیں: 1۔ وہ تقاریر سادہ اورعام انداز میں کی گئی ہو ،شیریں بیانی سے اجتناب کیاگیاہو ۔ 2۔ اس تقریر میں خطیب حضرات کی طرز واداکی نقالی نہ کی گئی ہو ۔ 3۔ اس میں لے اورطرز کے ساتھ اشعار وغیرہ نہ پڑھے گئے ہوں ۔ 4۔ شعلہ بیانی اور جوشیلے پن سے بھی اجتناب کیاگیاہو ۔ نیزاس بات کابھی خیال رکھناہوگا کہ عورت کواپنی ہم جنس عورتوں کی مجلس میں تقریر کرناہوگا ۔ایسی تقاریر کے وقت مردحضرات کی شمولیت کوممنوع قراردیاگیا ہو ۔بہرحال ہمارے نزدیک مندرجہ بالاشرائط کاخیال رکھتے ہوئے اگرمرد حضرات کسی عورت کی فکر انگیز تقریر پرمشتمل تصویر کے بغیر سادہ کیسٹ سنتے ہیں توشرعاًاس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ’’بستان الاربعین ‘‘نامی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چالیس فرمودات یادکرنے اورانہیں لکھنے کی فضیلت میںحسب ذیل تین احادیث ذکر کی گئی ہیں: جواب: ’’جوشخص میری امت میں امر دین کے متعلق چالیس حدیثیں یادکرے گا اوران پرعمل کرے گا وہ علما کی جماعت میں لکھاجائے گا، شہیدوں کے گروہ میں اٹھایاجائے گا اور میں اس کی حشر کے روزشفاعت کروں گا اوراس کے حق میں شہادت دوں گا، پھر اس سے کہاجائے گا کہ بہشت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہوجا۔‘‘ 1۔ ’’جوشخص مغفرت کی نیت سے چالیس حدیثیں لکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دے گا۔‘‘ 2۔ ’’جس نے اپنے مرنے کے بعد چالیس حدیثیں چھوڑدیں ،وہ بہشت میں میرارفیق ہوگا ۔‘‘ان احادیث کی استنادی حیثیت سے آگاہ فرمائیں ۔ 3۔ مولانامحمدصادق سیالکوٹی مرحوم کی تالیف ’’بستان الاربعین ‘‘میں ذکرکردہ مذکورہ حدیث کی تلاش میں ہمیں خاصی محنت اوردقت کاسامناکرناپڑا۔متعدد کتب کی ورق گردانی کے باوجو دان کاسراغ نہیں مل رہاتھا۔اچانک علامہ سیوطی کی تالیف ’’الجامع الصغیر‘‘ کا مطالعہ کرتے وقت اس موضوع کی دواحادیث سامنے آئیں ۔ایک حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی اور دوسری حضرت ابوسعید خدر ی رضی اللہ عنہ کی روایت تھی لیکن ان کے الفاظ مذکورہ احادیث سے مختلف تھے۔پھرعلامہ البانی رحمہ اللہ کی ضعیف ’’الجامع الصغیر‘‘ کودیکھا توپتہ چلا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کردہ حدیث ’’خودساختہ ‘‘اورحضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کی روایت ضعیف ہے ، انہوں نے تفصیل کے لئے حدیث نمبر: ۲۵۸ اور الاحادیث الضعیفہ :۴۵۸۹کاحوالہ دیاجبکہ ہمارے پاس صرف ۲۵۰۰احادیث کا سلسلہ موجودتھا ۔یعنی اس کی پانچ جلد دستیاب تھیں ،پھرمشکوٰۃ المصابیح رقم: ۲۵۸حدیث کی طرف رجوع کیاتوپتہ چلا کہ حدیث ابی الدرداء رضی اللہ عنہ علامہ بیہقی کی تالیف ’’شعب الایمان ‘‘میں موجود ہے۔حدیث کے اس عظیم انسائیکلوپیڈیا سے حدیث تلاش کرنا کارے دار، بہرحال وہاں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اورحدیث ابی الدرداء رضی اللہ عنہ کاسراغ ملا اوراس کے ساتھ امام بیہقی رحمہ اللہ نے یہ وضاحت بھی فرمائی کہ حدیث کا مذکورہ متن لوگوں میں بہت مشہور ہے لیکن اس کی کوئی بھی سند صحیح نہیں ہے ۔