کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 495
سوال: آج کل مارکیٹ میں بڑی فکر انگیز تقاریر پرمشتمل کیسٹیں دستیاب ہیں ،کیاشرعی طورپر ان کیسٹوں کے ذریعے عورتوں کی تقاریرسن سکتے ہیں ،قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں ۔ جواب: واضح رہے کہ عورتوں کو غیرمردوں سے اپنی ہر چیز چھپانے کاحکم ہے ،اس کی زیب وزینت کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’وہ اپنی زینت کوظاہر نہ کریں مگرجوازخود ظاہر ہوجائے ۔‘‘ [۲۴/النور:۳۱] اسی طرح آواز کے متعلق اللہ تعالیٰ کاارشا دہے: ’’اگرتم اللہ تعالیٰ سے ڈرتی ہو توکسی نامحرم سے دبی زبان میں بات نہ کرو،ورنہ جس شخص کے دل میں روگ ہے۔ وہ کوئی غلط توقع لگابیٹھے گا، لہٰذا صاف سیدھی بات کرو۔‘‘ [۳۳/الاحزاب: ۳۲] اس آیت کریمہ کے مطابق غیر عورت کی باہمی گفتگو اورآواز پرپابندی لگائی گئی ہے اوراس حکم میں مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کوبالخصوص اس لئے کیاگیا ہے کہ ان سے بھی لوگوں کودینی مسائل پوچھنے کی ضرورت پیش آتی رہتی تھی ،چنانچہ انہیں حکم دیا گیا کہ ان کی آواز شیریں اورلوچدار ہونے کے بجائے روکھی اوراسے ضرورت کی حدتک بلند ہوناچاہیے، دبی زبان میں ہرگز بات نہ کی جائے ،جواپنے اندر نرم گوشہ لئے ہوئے ہو، لوچدار اورشیریں آواز بذات خود دل کامرض ہے، پھر اگرمخاطب کے دل میں پہلے سے ہی اس قسم کا روگ موجود ہوتو وہ ایسی لذیذ گفتگو سے کئی غلط قسم کے خیالات اورتصورات دل میں جماناشروع کردے گا۔ عورت کی آواز پراصل پابندی یہ ہے کہ ضرورت کے بغیر غیر محرم مرد اس کی آواز نہ سننے پائیں، نیز اس کی آواز میں نرمی، بانکپن اور شیریں پن نہیں ہوناچاہیے ۔یہی وجہ ہے کہ عورت اذان نہیں کہہ سکتی مردوں کی جماعت نہیں کراسکتی،نمازبا جماعت میں اگرامام بھول جائے توزبان سے ’’سبحان اللہ‘‘ نہیں کہہ سکتی اورنہ اسے لقمہ دے سکتی ہے، بلکہ ایسے حالات میں اس کے لئے حکم ہے کہ اپنے ایک ہاتھ پردوسراہاتھ مارکرآوازپیدا کرنے سے امام کو متنبہ کرے، جیسا کہ احادیث میں اس کے متعلق مفصل ہدایات موجود ہیں ۔لیکن امربالمعروف اورنہی عن المنکر ایک ایسافریضہ ہے جوصرف مردوں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ عورتیں بھی اسے اداکرنے میں مردوں کے ساتھ شریک ہیں ۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحابیات مبشرات lنے شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس فریضہ کو ادا فرمایا، چنانچہ حدیث میں بیان ہے کہ نماز فجر کے بعد کچھ لوگوں نے بیت اللہ کاطواف کیاپھرمجلس وعظ میں بیٹھ گئے، جب طلوع آفتاب کا وقت ہواتوطواف کی دورکعت پڑھناشروع کردیں توحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان پربایں الفاظ بیان فرمایاکہ ’’طواف کے بعد بیٹھے رہے اورجب وہ وقت آپہنچا جس میں نماز اداکرنامکروہ ہے تواٹھ کرنماز شروع کردی ۔‘‘ [صحیح بخاری ،الحج :۱۶۲۸] اسی طرح معرکہ یرموک میں رومیوں کے مقابلہ میں بعض مسلمانوں نے پسپائی اختیار کی تو مسلمان خواتین نے انہیں شرم دلائی اورمعرکہ کارراز میں واپس پلٹنے کی تلقین کی ۔ [البدایہ والنہایہ، ص: ۱۳، ج۷] حفصہ بنت سیرین نے دینی وابستگی اور حمیّت اسلامی کے بارے میں ایک مرتبہ فرمایا تھا ’’اے نوجوانو!زمانہ جوانی میں اپنی جانوں سے فائدہ حاصل کرو میں نے جوانی کے عمل جیسابہترین عمل کسی اورزمانے میں نہیں دیکھا ہے ۔‘‘[صفۃ الصفوۃ، ص:۵۰۷، ج۴] الغرض کتب حدیث میں بے شمار واقعات ایسے ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ خواتین اسلام نے عام لوگوں اوراپنے عزیزو اقارب علما، طلبہ اورحکمرانوں کاوعظ و ارشاد کے ذریعے احتساب فرمایا ۔اس بنا پر مردوں کوعورتوں کی تقاریر پرمشتمل کیسٹ سننے میں