کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 493
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامعمول تھا کہ ہرسال رمضان المبارک میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کادورکرتے تھے اورجس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے دومرتبہ دور کیا، اس موقع پر بہت سی قراء ت منسوخ کردی گئیں اورچند قراء تیں باقی رکھی گئی ہیں ۔جواب تک متواتر چلی آرہی ہیں ۔ان کے لئے اولین شرط یہ ہے کہ وہ متواتر ذریعے سے ثابت ہوں اوردوسری شرط یہ ہے کہ مصاحف عثمانی کے رسم کے مطابق ہوں، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدخلافت میںجب سرکاری طورپر قرآن پاک کے نسخے تیارکرائے توان کے لئے ایسارسم الخط تجویز کیاگیا کہ قراء تیں اس رسم الخط میں سماگئیں اور جو قراء ت رسم الخط میں نہ آسکتی تھیں، ان کومحفوظ رکھنے کایہ طریقہ اختیارکیاگیا کہ ایک نسخہ ایک قراء ت کے مطابق اوردوسرادوسری کے مطابق تحریر کیا۔اس طرح سات نسخے تیارکئے گئے جومکہ معظمہ ،مدینہ منورہ ،یمن، بحرین ،بصرہ اورشام بھیجے اوران کے ساتھ قرّاء حضرات بھی روانہ کئے۔ تاکہ صحیح طریقے سے لوگوں کوقرآن کریم کی تعلیم دیں۔چنانچہ یہ قرّاء حضرات مختلف علاقوں میں پہنچے اورہرایک نے اپنی اپنی قراء ت کے مطابق پڑھاناشروع کردیا اوریہی قراء تیں لوگوں میں مشہور ہوگئیں ۔علمائے امت نے ان قراء ت کویاد کرنے کااس قدر اہتمام کیاکہ ’’علم قراء ت‘‘ایک مستقل فن کی شکل اختیارکرگیا ۔بہرحال متواتر قراء ت وحی کاحصہ ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار کرناقرآن کاانکار کرناہے ۔ [واللہ اعلم ] نوٹ:تدوین قرآن کے وقت عربی کتابت نقاط وحرکات سے خالی ہوتی تھی ۔اس لئے ایک ہی نقش میں مختلف قراء ت کے سماجانے کی گنجائش تھی ۔لوگوں کی سہولت کے لئے جب حروف پرنقاط وحرکات لگیں توقرآن مجید بھی علیحدہ علیحدہ قراء ت میں شائع ہونے لگے ۔چنانچہ ہمارے ہاں برصغیر میں قراء ت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے ،اسی طرح مغرب ،الجزائر ،اندلس اورشمالی افریقہ میں قراء ت امام نافع بروایت ورش عام ہے اوراسی کے مطابق قرآن مجید کی اشاعت ہوئی ہے ۔چنانچہ راقم نے مدینہ منورہ میں دوران تعلیم قراء ت نافع بروایت قالون اوربروایت ورش دونوں الگ الگ مصاحف دیکھے تھے ۔نیز قراء ت امام کسائی کامصحف بھی نظر سے گزراتھا ،یہ وضاحت اس لئے ضروری تھی کہ ہمارے ہاں روایت حفص پرمشتمل مصاحف ہی دستیاب ہیں۔ اس لئے اسے قرآن کے مترادف خیال کیاجاتاہے اوراس بنیاد پردوسری متواتر قراء ت کاانکار کیاجاتا ہے جبکہ حقیقت حال اس کے برعکس ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کتب احادیث میں آیاہے کہ انہوں نے کوہ طورپر سفرکیاتھا ان کاسفر اس حدیث کے خلاف نہیں ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ تین مساجد کے علاوہ کسی دوسری مسجد کی طرف رخت سفر نہ باندھا جائے۔‘‘ نیزکچھ لوگ زیارت طورسے زیارت مزارات کاسفر ثابت کرتے ہیں؟ جواب: حدیث میں بیان ہے کہ مسجد حرام ،مسجد نبوی اوربیت المقدس کے علاوہ تقرب الی اللہ اور حصول ثواب کی نیت سے کسی دوسری جگہ سفر کرکے جانا جائز نہیں ہے ۔ [صحیح بخاری ،فضل الصلوٰۃ :۱۱۸۹] جب ان تین مسجدوں کے علاوہ کسی اورمسجد کی طرف سفرکرناجائزنہیں ،تومزارات اورصالحین کے آثار کی زیارت کے لئے سفرکیونکر جائزہوسکتا ہے؟ ائمہ اربعہ اوردیگر فقہا کے نزدیک تومسجد قبا کی زیارت کے لئے دوردراز سے سفر کرکے جانابھی جائز نہیں