کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 491
یہ سب قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے لعنت زدہ ہوں گے بشرطیکہ دیدہ ودانستہ ایساکام کرتے ہوں۔‘‘ [مسندامام احمد، ص: ۴۳۰، ج۱] ان احادیث کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کہ سودی معاملات میں گواہی دینے والا بھی سودخوری کے جرم میں برابر کاشریک ہے، صورت مسئولہ میں سودی سلسلہ میں گواہی کی ایک شکل ہے، لہٰذا اس کاروبار کو ترک کر دیناچاہیے ،اس کے علاوہ قرآن کریم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ’’تقوی اوربھلے کاموں میں ایک دوسرے کاتعاون کرو،گناہ اورزیادتی والے معاملات میں کسی کاتعاون نہ کرو۔‘‘ [۵/المائدہ :۲] درج بالاصورت بھی گناہ اورنافرمانی میں بنک کاتعاون کرناہے، ہمارے ہاں بنکاری نظام کی بنیاد سود پر ہے، اس لئے اس کے ساتھ ہرقسم کاتعاون شرعاًممنوع ہے ،لہٰذاایک مسلمان کو دنیا کی بجائے اپنی آخرت کی فکر ہونی چاہیے، یہ دنیا کاسازوسامان تو دنیا میں ہی رہ جائے گا ۔ [واللہ اعلم] سوال: ہمارے بعض مدارس میں سبعہ یاعشرہ قراء ت کااہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ بعض علما سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قراء ت کا حصہ نہیں ہیں، کیونکہ ان کا ثبوت حدتواتر کونہیں پہنچتا، قرآن کریم تواتر سے ہم تک پہنچا ہے، قرآن وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں۔ جواب: اس پرفتن دور میں جہاں آزادی تحقیق کے نام سے صحیح احادیث کاانکار بلکہ استخفاف کیاجاتا ہے، وہاں قراء ت متواترہ کوبھی تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔ حالانکہ ہمارے ہاں برصغیر میں قرآن کریم کی جوروایت پڑھی پڑھائی جاتی ہے وہ قراء ت متواتر کاہی ایک حصہ ہے۔ اسے تسلیم کرنااورباقی قراء ت کاانکار کرناعلم وعقل سے کورذوقی کی بدترین مثال ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی زبان مختلف علاقوں اورقبیلوں میں استعمال ہوتواس کے بعض الفاظ کے استعمال میں اتنافرق آجاتا ہے ،کہ ایک قبیلہ والا دوسرے قبیلے والوں کے لب ولہجہ اوران کے ہاں مستعمل الفاظ کوسمجھنے سے قاصر ہوتا ہے ۔نزول قرآن کے وقت عربی زبان قریش، ہذیل، تمیم، ربیعہ، ہوازن اور سعدبن بکرجیسے بڑے بڑے قبیلوں میں بولی جاتی تھی ۔لیکن بعض قبائل عربی الفاظ اوران کے موارداستعمال کے سمجھنے سے قاصر رہتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر آسانی کرتے ہوئے قرآن کریم کوسات حروف میں نازل فرمایا ہے۔ تاکہ قرآن کریم کے اول مخاطبین تکلف کاشکار نہ ہوں۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادہے کہ ’’قرآن کریم سات حروف میں نازل کیاگیا ہے، لہٰذا جوحرف تمہیں آسان معلوم ہواس کے مطابق اس کی تلاوت کرو۔‘‘ [صحیح بخاری ،فضائل القرآن: ۴۹۹۲] یہ حدیث محدثین کے ہاں ’’سبعہ احرف ‘‘کے نام سے مشہور ہے اورائمۂ حدیث نے اسے اپنی تالیف میں ذکر کرکے متواتر کا درجہ دیا ہے ،چنانچہ صحیح بخاری ،صحیح مسلم ،جامع ترمذی ،سنن نسائی ، سنن ابی داؤد ،مؤطاامام مالک، مسند امام احمد ،سنن بیہقی ،مستدرک حاکم اور مصنف عبدالرزاق میں یہ حدیث بیان ہوئی ہے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بائیس سے زیادہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں جن میں عمربن خطاب ،عثمان بن عفان ،علی بن ابی طالب ،ابوہریرہ،عبداللہ بن مسعود ،ابی بن کعب ،معاذ بن جبل، عبداللہ بن عباس، حذیفہ بن یمان ،انس بن مالک ،عبدالرحمن بن عوف ،عبادہ بن صامت ،ابوطلحہ انصاری ،سمرہ بن جندب، عمر وبن العاص،