کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 490
ایساہوسکتا ہے ۔دونوں صورتوں میں نوافل وغیرہ سے اس کمی کوپوراکیاجائے گا ۔اگرکسی انسان کے نامۂ اعمال میں نماز نامی کوئی چیز برآمد ہی نہ ہوئی توایسے انسان کااسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ تواحادیث کی صراحت کے مطابق دائرہ اسلام سے ہی خارج ہے ، اس کے علاوہ رکعات کی تعداد یاکیفیت اداکے متعلق اگرکمی کوتاہی ہوئی تواسے نوافل وسنن سے پورا کیاجائے گا ،جیساکہ دیگر احادیث میں اس کی صراحت بیان ہوئی ہے ۔ [نسائی ،الصلوٰۃ :۴۶۷،ابن ماجہ الصلوٰۃ :۱۴۲۵] عدل وانصاف کے تقاضوں کوپوراکرنے کے لئے چھوٹے سے چھوٹے عمل کاحساب ہو گا، جیساکہ قرآن کریم میں ہے۔ ’’ ہم قیا مت کے دن عدل وانصاف کاترازو قائم کردیں گے، لہٰذا کسی کی کچھ حق تلفی بھی نہ ہوگی اوراگرکسی کارائی کے دانہ کے برابربھی عمل ہوگا تووہ بھی سامنے لائیں گے اور حساب لینے کے لئے ہم کافی ہیں ۔‘‘ [۲۱/الانبیاء:۴۷] مذکورہ حدیث کے آخر میں بھی ہے کہ اسی طرح دیگراعمال کامحاسبہ ہو گا، البتہ ارکان اسلام ،نماز ،روزہ ،حج اورزکوٰۃ لازمی مضامین کی حیثیت سے ان کاحساب لیاجائے گا ۔اگران میں انسان ناکام رہے تو اسے ناکام ہی قراردیاجائے گا، البتہ حساب و کتاب توزندگی بھرکے اعمال کاہوگا تاکہ برسرعام ایک نامراد انسان کی ناکامی کوواضح کیا جائے ۔قرآن میں ہے کہ’’ جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اورجس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔ [(۹۳/الزلزال:۷،۸)واللہ اعلم] سوال: نیشنل بنک آف پاکستان کی طر ف سے سونے کے زیورات پرقرضہ دیاجاتاہے اس پربنک سود بھی وصول کرتا ہے، ان زیورات کی گارنٹی کے لیے بنک کی طرف سے ایک زرگر مقررہوتا ہے جوبنک سے توکچھ وصول نہیں کرتا البتہ قرضہ والوں سے زیورات کی گارنٹی کے عوض کچھ فیس وصول کرتا ہے بنک کی طرف سے یہ ڈیوٹی اور گارنٹی پرفیس کی وصولی شرعاًکیاحیثیت رکھتی ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں ۔ جواب: حدیث میں بیان ہے کہ لوگوں پرایساوقت آجائے گاکہ کوئی بھی سود کی لعنت سے محفوظ نہیں رہے گا ، اگر کوئی سودنہیں لے گا تواس کے غبارودھواں سے ضروردوچارہوگا ۔ [ابن ماجہ ،التجارات :۲۲۷۸] چنانچہ آج ہماری یہی کیفیت ہے ، اس کامصداق سوال میں ذکر کردہ صورت میں دیکھا جاتا ہے کہ بنک والوں نے لوگوں کوپھانسے کے لئے کیاکیاصورتیں پیداکررکھی ہیں ،بنک زیورات کی گارنٹی پرلوگوں کوسوددیتا ہے ۔لیکن زیورات کے معیار اوراس کی مقدار کے لئے ایک آدمی مقررہے جوبنک سے توکچھ وصول نہیں کرتا لیکن زیورات والوں سے اس گارنٹی کے عوص فیس وصول کرتا ہے، گویابنک جب قرضہ جاری کرتا ہے تواس زرگر کی شہادت پردیتا ہے کہ ان زیورات کامعیار یہ ہے اورمقداراتنی ہے یعنی گارنٹی دینے والا بنک اورقرضہ لینے والے کے درمیان ایک واسطہ ہے اور اس کی گواہی پرقرضہ جاری ہوتا ہے ،اب ہم حدیث پرغورکرتے ہیں کہ ایساکام کرنے کے متعلق کیاوعید ہے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے سودکھانے والے،کھلانے والے ،لکھنے والے اوراس کے متعلق گواہی دینے والے پرفرمایاکہ یہ سب جرم میں برابرکے شریک ہیں ۔‘‘ [صحیح مسلم ،المساقاۃ :۴۰۹۳] حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ’’ سودکھانے ،کھلانے والا،اس کی گواہی دینے اسے ضبط تحریر میں لانے والا