کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 487
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما [مجمع الزوائد ص: ۱۶۹، ج۵] جبکہ یہ تینوں اکابرکے متعلق روایات میں ہے کہ بالعموم یاخاص مواقع پرایک مشت سے زائد داڑھی اوررخساروں کے بال کٹوا دیتے تھے۔ [حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صحیح بخاری :۵۹۲حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ طبقات ابن سعد، ص:۳۳۴، ج۴، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، مصنف ابن ابی شیبہ، ص:۸۵، ج۴] اگرچہ ہمارے نزدیک قابل عمل راوی کی روایت نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت ہے۔ 2۔ امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہواکہ آدمی کی داڑھی بہت زیادہ طویل ہوجائے توکیاکرے ؟آپ رحمہ اللہ نے فتوی دیا کہ ایسی حالت میں اسے اعتدال پرلانے کے لئے کاٹاجاسکتا ہے ۔ [باجی شرح مؤطا،ص: ۲۲۶،ج۷] 3۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام طبری کے حوالہ سے لکھاہے کہ اگرآدمی اپنی داڑھی کواپنی حالت پرچھوڑدے اوراس کاطول و عرض اس حدتک بڑھ جائے کہ لوگوں کے ہاں ’’اضحو کہ روزگار‘‘بن جائے توایسی حالت میں اسے کاٹاجاسکتا ہے۔[فتح الباری ،ص: ۴۳۰ج، ۱۰] 4۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق روایات میں ہے کہ ان کے پاس ایک شخص کولایاگیا جس کی داڑھی حدسے بڑھی ہوئی تھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے معقول حدکے نیچے سے اسے کاٹ دیاتھا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے طبری کے حوالہ سے بیان کیاہے ۔ [واللہ اعلم ] اگرکوئی اس قسم کے دلائل سے مطمئن ہوتو مذکورہ شخص کے متعلق نرم گوشہ رکھنے میں چنداں حرج نہیں ہے۔ بصورت دیگر اسے استقامت کامظاہرہ کرناچاہیے تاکہ سنت کی حفاظت پراللہ کے ہاں بے پایاں اجروثواب کی امید کی جاسکے ۔ہم نے ایسے بزرگ بھی دیکھے ہیں کہ دوران نماز جب رکوع کرتے تھے توان کی داڑھی زمین پرآلگتی تھی ۔اب وہ دنیاسے رخصت ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ہاں کروٹ کروٹ رحمت سے نوازے۔ آمین سوال: قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے کس فرقہ پرکاربند رہنے کاحکم دیا ہے، جبکہ قرآن کریم میں توفرقہ بندی سے منع کیا گیا ہے، نیز یہ بھی آگاہ فرمائیں کہ کس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 73فرقوں کاذکر کیا ہے؟ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ہمارانام مسلمان رکھاہے اورہمیں فرقہ بندی سے بھی سختی کے ساتھ منع کیاہے۔ تو پھرکیاوجہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو اہل حدیث کہلاتے ہیں۔کیااہل حدیث ایک فرقہ نہیں ہے؟ جواب: قرآن پاک میں ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے کسی خاص فرقہ پرکاربند رہنے کاحکم نہیں دیا ،بلکہ اس سلسلہ میں ہدایت جاری کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کومضبوطی سے تھام لو اورتفرقہ میں نہ پڑو۔ [۳/آل عمران :۱۰۳] حبل اللہ، یعنی اللہ کی رسی سے مراد اللہ کی کتاب اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات ومعمولات ہیں ۔جب تک امت ان دونوں کومضبوطی سے تھامے رکھے گی ،کبھی گمراہی سے دوچار نہیں ہوگی ۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑے جارہاہوں ،اگرتم نے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تودنیاکی کوئی طاقت تمہیں گمراہ نہیں کرسکے گی ۔وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اورمیراطریقہ ہے ۔‘‘ [مستدرک حاکم ،العلم :۳۱۹] فرقہ سازی ،فرقہ پروری اورفرقہ پرستی سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع فرمایا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے :’’تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جوفرقوں میں بٹ گئے اورروشن دلائل آنے کے بعد آپس میں اختلاف کرنے لگے۔‘‘ [۳/آل عمران :۱۰۵]