کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 484
میں ولی سرپرست کوبنیادی حیثیت حاصل ہے، پھرایک دوسراعنوان قائم کرتے ہیں کہ ’’کوئی باپ یاکوئی دوسرا رشتہ دارکسی کنواری یاشوہر دیدہ کانکاح اس کی رضاکے بغیر نہ کرے۔‘‘ ان ابواب کاتقاضا ہے کہ نہ توکھلی آزادی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے شادی رچا لے اورنہ ہی وہ اس قدر مقہورومجبورہے کہ اس کاسرپرست جہاں چاہے جس سے چاہے اس کاعقد کردے بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک تیسراعنوان بیان کرتے ہیں ’’اگرکسی نے اپنی بیٹی یابہن کی مرضی کے بغیرنکاح کر دیا تو یہ نکاح مردود ہے۔‘‘ درحقیقت شریعت اعتدال کوقائم رکھناچاہتی ہے نہ توسرپرست کواتنے وسیع اختیارات حاصل ہیں کہ وہ اپنی بیٹی یابہن کی مرضی کے بغیر جہاںچاہے جس سے چاہے نکاح کردے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک میں ایک نکاح ایساہوا توآپ نے بچی کی صوابدیدپرموقوف رکھاکہ اگروہ چاہے تواسے مسترد کردے۔ [صحیح بخاری ،النکاح :۵۱۳۸] اورنہ ہی عورت کواس قدرکھلی آزادی دی گئی ہے کہ وہ خودسرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کرکے اپنے خاندان کی عزت وآبروکوخاک میں ملا دے۔ ہاں اگرباپ یا دوسرے سرپرست کے متعلق باوثوق ذرائع سے پتہ چل جائے کہ وہ اپنے زیر سرپرست کے لئے مہرووفا کے جذبات سے عاری ہے یا وہ دینی ودنیوی مفادات کامحافظ نہیں ہے تووہ خودبخودحق ولایت سے محروم ہوجاتا ہے۔حدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے، چنانچہ بعض روایات میں ولی مرشد کے الفاظ ملتے ہیں۔ [بیہقی،ص:۱۲۴، ج۷] اس صورت میںحق ولایت خودبخوددوسرے قریبی رشتہ دار کی طرف منتقل ہوجاتاہے اگرتمام سرپرست کسی غلط جگہ پرنکاح کرنے کے لئے اتفاق کرلیں (اگرچہ ایسابہت کم ہوتا ہے ) توگاؤں یاشہر کے سرکردہ اورشریف الطبع لوگوں کی سرپرستی میں نکاح کیاجاسکتا ہے۔اگریہ صورت بھی ناممکن ہوتو بالآخر عدالتی چارہ جوئی میں کوئی قباحت نہیں ۔اگرعدالت دیانتداری کے ساتھ اس نتیجہ پرپہنچے کہ تمام سرپرست نکاح کے لئے کسی غلط کارکاانتخاب کئے ہوئے ہیں توجج کی سرپرستی میں نکاح کیاجاسکتا ہے ،لیکن اگرباپ یاکوئی دوسراسرپرست صحیح جگہ پر نکاح کرناچاہتا ہے لیکن وہاں لڑکی آمادہ نہیں یااپنی کسی غلط کاری کی وجہ سے کسی ایسی جگہ رشتہ کرناچاہتی ہے جوخاندان کے لئے باعث ننگ وعار ہے یا اپنے آشناکے ساتھ بھاگ کرعدالتی چھتری کے نیچے نکاح کرلیتی ہے توایسے حالات میں عدالتی نکاح صحیح نہیں ہوگا۔اس سلسلہ میں ہماراعزیزہ کویہی مشورہ ہے کہ وہ چادر اور چاردیواری کاتحفظ کرتے ہوئے اپنے والد کوکتاب وسنت کے دلائل سے آمادہ کرے کہ نکاح کے متعلق دینی واخلاقی اقدار کو اولیت حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں ازخودکسی رشتہ کی نشاندہی کرنے کے بجائے یہ انتخاب والدین کی صوابدیدپرچھوڑدیاجائے۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھی مضبوط تعلق قائم کیاجائے اوردعاکرتی رہے کہ وہ اسے دینی لحاظ سے بہترین رفیق حیات عطا فرمائے۔ [واللہ اعلم ] سوال: ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موت کی خبرسنانے سے منع کرتے تھے کیا فوتگی کااعلان کرنادرست ہے ؟ ٭ اگرعورت کے چہرے پرمونچھیں اگ آئیں توکیا انہیں صاف کیاجاسکتا ہے ؟ ٭ کیابچوں یابڑوں کوبرہنہ دیکھنے سے وضوٹوٹ جاتا ہے ؟