کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 482
یاچھاتی سے پہچانا جاسکتاہے ۔بہرصورت وہ شرعی احکام کاپابندہے، اگرمرد ہے تومردوں جیسے اوراگرعورت ہے توعورتوں کے احکام پرعمل کیاجائے۔ خامساً: صورت مسئولہ میں جس طرح تفصیل بیان کی گئی ہے، اس سے معلوم ہوتاہے کہ سائل لڑکی ہے اوراس پرعورتوں جیسے احکام لاگوہوں گے، لیکن حقیقت حال وہ خودہی بہتر جانتا ہے کہ اگر وہ مرد ہے اورعورتوں جیسی شکل وصورت اختیارکی ہے جواس کے گروکی صحبت اورتربیت کانتیجہ ہے تواسے اس شکل وصورت کویکسر ختم کرناہوگا،کیونکہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح عورتوں کاروپ دھارنے والے پرلعنت فرمائی ہے اوراگروہ حقیقت میں عورت ہی ہے، نیزگروکی مجلس نے اس کی نسوانیت کو دو آتشہ کردیاہے تب بھی اسے یہ کام ختم کرناہوں گے اورمسلمان عورتوں کی طرح چادر اورچاردیواری کاتحفظ کرنا ہو گا، تاہم احتیاط کا تقاضاہے کہ حج کے لئے عورتوں جیسااحرام اختیارکرے، یعنی عام لباس پہنے ،اپنے چہرے کو کھلا رکھے، تاہم اگرکوئی اجنبی سامنے آجائے توگھونگھٹ نکالے، جیساکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کابیان کتب حدیث میں مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت احرام میں ہوتیں اورقافلے ہمارے پاس سے گزرتے جب وہ ہمارے سامنے آجاتے تو ہم اپنی چادر یں اپنے چہروں پرلٹکالیتیں اورجب وہ گزرجاتے توہم انہیں اٹھادیتیں۔ [ابوداؤد، المناسک: ۱۸۳۳] اس کے علاوہ محرم کی بھی پابندی ہے کہ وہ اپنے کسی محرم کے ساتھ یہ مبارک سفر کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کواس کی بیوی کے ساتھ سفرحج پرروانہ کیاتھا جبکہ وہ جہاد میں اپنانام لکھواچکاتھا ، اس لئے سائل کوحج پرجانے کے لئے اپنے کسی محرم کاانتخاب بھی کرنا ضروری ہے، اگراسے اپنے کسی محرم کا پتہ نہیں ہے، جیساکہ سوال میں بیان کردہ صورت حال سے واضح ہوتاہے تواسے چاہیے کہ چند ایسی عورتوں کی رفاقت اختیار کرے، جن کے محرم ان کے ساتھ ہوں ،اسے اکیلی عورتوں یااکیلے مردوں کے ساتھ سفرکرنے کی شرعاًاجازت نہیں ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: ادارہ ’’اہل حدیث‘‘ کی معرفت کالج کی ایک طالبہ کاخط موصول ہوا ہے جس میں اپنے دینی جذبات کابایں الفاظ اظہارکیاگیا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے کابہت شوق ہے لیکن صنف نازک ہونے کی وجہ سے اس سعادت کوحاصل نہیں کر سکتی، نیز میرے والد گرامی جہاں میرارشتہ کرناچاہتے ہیں وہاں دینی لحاظ سے مطمئن نہیں ہوں ،اس ذہنی الجھن سے نجات حاصل کرنے کے لئے مجھے کیاکرناچاہیے۔کتاب و سنت کی روشنی میں میری راہنمائی فرمائیں؟ جواب: اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنااللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑااعزاز ہے، بلکہ شہادت کی تمناکرناایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سعادت کوحاصل کرنے کے لئے بایں الفاظ اپنی خواہش کااظہار فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جاؤں، پھرمجھے زندگی مل جائے، پھراللہ کی راہ میں کٹ جاؤں ،پھر زندہ کیاجائوں ،پھراللہ کی راہ میں شہیدہوجاؤں ،پھرمجھے زندگی دی جائے، پھراللہ کے راستہ میں اپنی جان کانذرانہ پیش کروں ۔‘‘ [صحیح بخاری ،الجہاد:۲۷۹۷] عورتوں کے لئے جہاد میں شرکت کے لئے کئی ایک مواقع ہیں، لیکن ان کاشریک ہوناضروری نہیں ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا