کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 481
ثانیاً: اس کام سے صرف نفرت ہی کافی نہیں ہو گی، بلکہ فریضہ حج کاانتظارکئے بغیر فوراًاس سے توبہ کی جائے۔ اپنے ساتھیوں سے الگ ہو جانا چاہیے، کیونکہ موت کاکوئی پتہ نہیں کب آجائے ،اخروی نجات کے لئے برے کام سے صرف نفرت ہی کافی نہیں، بلکہ اسے اللہ کی بارگاہ میں ندامت کے آنسو بہاتے ہوئے چھوڑدیناضروری ہے ۔پھرنیک اعمال نماز ،روزہ وغیرہ سے اس کی تلافی کرنابھی لازمی ہے ۔اس بنا پر سائل کوہماری نصیحت ہے کہ وہ فوراًاس کام سے باز آجائے اوراپنے ہم پیشہ ساتھیوں سے کنارہ کش ہوکر اخروی نجات کی فکر کرے ۔ ثالثاً:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک میں یہ جنس موجودتھی، بعض کے نام بھی ملتے تھے کہ وہ معیت ،نافع ،ابوماریہ الجنّہ اور مابور جیسے ناموں سے پکارے جاتے تھے۔ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرائع اسلام اداکرتے تھے۔نمازیں پڑھتے ،جہاد میں شریک ہوتے اور دیگر امورخیربھی بجالاتے تھے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے متعلق پہلے یہ خیال کرتے تھے کہ یہ بے ضررمخلوق ہے۔ آدمی ہونے کے باوجود انہیں عورتوں کے معاملات میں چنداں دلچسپی نہیں ہے ۔اس لئے آپ ازواج مطہرات کے پاس آنے جانے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے، لیکن جب آپ کوپتہ چلا کہ انہیں عورتوں کے معاملات میں خاصی دلچسپی ہی نہیں بلکہ یہ لوگ نسوانی معلومات بھی رکھتے ہیں، توآپ نے انہیں ازواج مطہرات اوردیگر مسلمان خواتین کے ہاں آنے جانے سے منع فرما دیا، بلکہ انہیں مدینہ بدر کرکے روضہ خاخ ،حمرآء الاسد اور نقیع کی طرف آبادی سے دور بھیج دیا،تاکہ دوسرے لوگ ان کے برے اثرات سے محفوظ رہیں۔ [صحیح بخاری، المغازی: ۴۲۳۴] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کوحکم دیا کہ انہیں بے ضررخیال کرکے اپنے پاس نہ آنے دیں ،بلکہ انہیں گھروں میں داخل ہونے سے روکیں۔ [صحیح بخاری ،النکاح :۵۲۳۵] رابعاً: واضح رہے کہ مخنّث بنیادی طورپر مرد ہوتا ہے، لیکن مردمی قوت سے محروم ہونے کی وجہ سے عورتوں جیسی چال ڈھال اور اداو گفتار اختیارکئے ہوتاہے ۔یہ عادات اگرپیدائشی ہیں توانہیں چھوڑنا ہو گا، اگر پیدائشی نہیں بلکہ تکلف کے ساتھ انہیں اختیار کیاگیا ہے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختیار پر لعنت فرمائی ہے کہ ’’وہ مردجوعورتوں جیسی چال ڈھا ل اوروہ عورتیں جومردوں جیسی وضع قطع اختیار کریں اللہ کے ہاں ملعون ہیں۔‘‘ [صحیح بخاری ،اللباس :۵۸۸۷] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا مخنّث لایاگیا جس نے عورتوں کی طرح اپنے ہاتھ پاؤں مہندی سے رنگے ہوئے تھے۔ آپ سے عرض کیاگیا کہ یہ ازخود عورتوں جیسی چال ڈھال پسندکرتاہے توآپ نے اسے مدینہ بدرکرکے علاقۂ نقیع میں بھیج دیا،جہاں سرکاری اونٹوں کی چراگاہ تھی۔ آپ سے کہاگیا اسے قتل کر دیا جائے۔آپ نے فرمایاکہ ’’مجھے نمازیوں کوقتل کرنے سے منع کیاگیا ہے۔‘‘ [ابوداؤد، الادب: ۴۹۲۸] البتہ خنثی اس سے مختلف ہوتا ہے، کیونکہ فقہا کے ہاں اس کی تعریف یہ ہے کہ ’’جومردانہ اورزنانہ آلات جنسی رکھتا ہو یا دونوں سے محروم ہو۔‘‘ [المغنی لابن قدامہ، ص:۱۰۸ ، ج۹] بلوغ سے پہلے اس کے لڑکے یالڑکی ہونے کی پہچان اس کے پیشاب کرنے سے ہوسکتی ہے اوربلوغ کے بعد اس کی داڑھی