کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 479
ہے، پھروہ سال بھراللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق عمل درآمد کرتے رہتے ہیں ۔حدیث میں اس رات کے متعلق صراحت ہے کہ ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں آتی ہے، مگربعض ناقابل حجت روایات کی بنا پر انہیں دوالگ الگ راتیں قرار دیا گیا ہے۔ لیلۃ القدر سے مراد رمضان المبارک کے آخری عشرہ والی رات اورلیلۃ المبارکہ کوماہ شعبان کی پندرہویں رات مرادلی گئی ہے۔ جس کانام شب براء ت ہے، پھرستم یہ ہے کہ جس قدر فضائل ومناقب لیلۃ القدر کے متعلق احادیث میں وارد ہیں، ان تمام کوشب براء ت کے کھاتے میں ڈال کر خوب رواج دیاگیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماہ شعبان کے متعلق یہ منقول ہے کہ آپ اس مہینے کے روزے بکثرت رکھتے تھے۔ باقی اس رات آیندہ سال کی پیدائش واموات لکھی جانے والی بات سرے سے غلط ہے ،اگرچہ تفسیر ابن کثیرمیں حضرت مغیرہ بن اخنس سے بیان ہے کہ اس رات شعبان سے شعبان تک لوگوں کی عمریں لکھی جاتی ہیں ۔ [تفسیرابن کثیر :۴/۱۳۷] لیکن اس کے متعلق آپ کا فیصلہ بھی مذکور ہے کہ یہ مرسل روایت صحیح نصوص کے خلاف ہے۔بہرحال ہرانسان کی موت وحیات اوررزق وغیرہ کافیصلہ لیلۃ القدر میں ہوتاہے جوماہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے ۔اگرچہ یہ فیصلے اللہ کی تقدیر میں پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں، تاہم اللہ تعالیٰ سال بھر کے فیصلے فرشتوں کے حوالے کردیتا ہے تاکہ وہ انہیں اہل دنیا پرنافذکریں۔واضح رہے کہ اہل علم نے تقدیر کی چار اقسام بیان کی ہیں : 1۔ تقدیر ازلی :اس سے مراداللہ کی وہ تقدیر ہے جوزمین وآسمان کی پیدائش سے پہلے تحریر کی گئی ۔ارشادباری تعالیٰ ہے: ’’کوئی مصیبت ملک پریاخودتم پرنہیں آتی مگر اس سے پہلے کہ ہم اسے پیداکریں ،وہ ایک خاص وقت میں لکھی ہوئی تھی ۔‘‘ [۵۷/الحدید:۲۲] 2۔ تقدیرعمر ی: یعنی عمربھر کی تقدیر اس کی دوانواع ہیں : (الف) عہدوپیمان کے وقت لکھی گئی تقدیرجس کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہے: ’’جب آپ کے رب نے اولادآدم کی پشت سے ان کی اولاد کونکالا اوران سے اقرارلیا کہ میں تمہارارب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں تاکہ تم لوگ قیامت کے دن یوں نہ کہو کہ ہم تواس سے محض بے خبرتھے ۔‘‘ [۷/الاعراف: ۱۷۲] (ب) شکم مادرمیں تقدیر عمری کابیان حدیث میں بیان ہے کہ’’ قرار نطفہ کے چارماہ بعد فرشتہ اس کی تقدیر کو لکھتاہے ۔‘‘ قرآن کریم میں بیان ہے کہ ’’وہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں منی سے پیداکیا اورجب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے۔‘‘ [۵۳/النجم : ۳۲] 3۔ تقدیر حولی:جس میں سال بھر کے فیصلے ہوتے ہیں ۔یہ کام لیلۃ القدر میں سرانجام پاتاہے ،جیسا کہ پہلے اس کاذکر ہوچکا ہے ۔ 4۔ تقدیر یومی :ہرروز اس کے تازہ فیصلوں کانفاد، جیسا کہ ارشادباری تعالیٰ ہے: ’’وہ ہرروز کام میں مصروف رہتا ہے۔‘‘ (۵۵/الرحمن : ۲۹) اس کامطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرروز کسی کوبیمار کررہا ہے توکسی کوشفایاب کررہا ہے کسی کومالدار بنا رہا توکسی مالدار کوفقیر کر رہاہے کسی کوگداسے شاہ اورشاہ سے گدا الغرض کائنات میں یہ سارے تصرف اس کے امراور اس کی مشیئت سے ہورہے ہیں۔ کائنات میں کوئی لمحہ ایسانہیں ہے ۔جواللہ تعالیٰ کی کارگزاری سے خالی ہو۔