کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 478
ان کے عقائد کی جھلک درج ذیل ہے: ٭ جو شخص مسعود احمد کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتا وہ غیر مسلم ہے۔ ٭ غیر مسعود ی کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز نہیں۔ ٭ غیر مسعودی کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں اور نہ ہی ان کے معصوم بچوں کے جنازہ میں شریک ہونا جائز ہے۔ ٭ غیر مسعودی کو لڑکی دینا یا ان سے لڑکی لینا جائز نہیں۔ ٭ مسعودی اپنے معاہدہ نکاح میں یہ شرط شامل کرتے ہیں کہ جماعت چھوڑنے کی صورت میں ہماری لڑکی کو طلاق دو گے۔ ٭ جماعت المسلمین کو چھوڑنے والا مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ ٭ غیر مسعودی کی اقتدا میں حج کرنا جائز نہیں ہے۔ خوارج کی طرح ان کا رویہ انتہائی سخت اور خشونت بھرا ہوتا ہے، ان کے عقائد و نظریات بڑی حد تک روافض و قادیانیوں سے یکسانیت رکھتے ہیں۔ ان حضرات نے امت مسلمہ کی تکفیر کرکے سیاسی اقتدار کے حصول کے بغیر ’’جماعت المسلمین‘‘ کے نام سے ایک خود ساختہ نظام حکومت قائم کرنے کا نظریہ بھی خوارج سے مستعار لیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا تھا کہ جو آیات کفار و منافقین کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔ یہ لوگ انہیں مسلمانوں پر چسپاں کرکے قلبی سکون حاصل کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا ہے کہ’’ ان کے ساتھ مت بیٹھو تاآنکہ وہ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں۔ بصورت دیگر تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو جائو گے۔‘‘ [۴/النسآء:۱۴۰] سوال: غنیۃ الطالبین میں شعبان کی پندرہویں رات، یعنی شب براء ت کے متعلق لکھا ہے کہ اس رات آیندہ سال کی پیدائش واموات لکھی جاتی ہیں اوراس میں رزق تقسیم ہوتا ہے ، ہرسال ایساہوتا ہے، جبکہ ہرانسان کی قسمت کا فیصلہ، یعنی موت وحیات اوررزق وغیرہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پہلے طے کررکھا ہے۔ وضاحت فرمائیں اس کے علاوہ اس رات سو رکعت پڑھنے کے متعلق بھی لکھا ہے کہ ہررکعات میں دس دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھی جائے۔ اسے ’’صلوٰۃ خیر‘‘ کہتے ہیں۔اس کااہتمام کرنے سے برکت پھیلتی ہے ۔مزید فرمایاکہ ہمارے اسلاف اس نماز کوجماعت کے ساتھ پڑھتے تھے ۔اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اس نماز کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ستربار نظررحمت سے دیکھتا ہے اورہربار دیکھنے سے انسان کی سترحاجتیں پوری ہوجاتی ہیں اس کے متعلق تفصیل سے لکھیں؟ جواب: قرآن کریم میں ہے کہ ’’ہم نے اس قرآن کو لیلۂ مبارکہ میں، یعنی خیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہمیں اس سے ڈرانا مقصود تھا اس رات ہمارے حکم سے ہرمعاملہ کاحکیمانہ فیصلہ کردیاجاتا ہے۔‘‘ [۴۴/الدخان: ۳،۴] اسی رات کودوسرے مقام میں لیلۃ القدر کہاگیاہے کہ اس رات کوبڑے اہم امورکے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ ارشا د باری تعالیٰ ہے: ’’اس رات ملائکہ اورجبرائیل علیہ السلام اپنے پروردگار کے اذن سے ہرطرح کاحکم لے کراترتے ہیں۔‘‘ [۹۷/القدر:۴] اس کامطلب یہ ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ افراد و اقوام کی قسمتوں کے فیصلے انہیں نافذ کرنے کے لیے اپنے فرشتوں کے حوالے کر دیتا