کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 476
علاوہ سب فرقے جہنم کا ایندھن ہوں گے۔‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ نجات یافتہ کون ہو ں گے؟ آپ نے فرمایا :’’جو اس راہ پر چلیں گے جس راہ پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔‘‘ [ترمذی، الایمان،۲۶۴۱] اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معیار کی نشاندہی فرمادی ہے جو قیامت کے دن اس کے ہاں اس کے عذاب سے نجات کا باعث ہو گا۔ قرآن پاک میں اسے صراط مستقیم اور سبیل المؤمنین کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرقہ بازوں کو مشرکین کے لفظ سے ذکر کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ اور ان مشرکین سے نہ ہو جائو جنہوں نے اپنا دین الگ کرلیا اور گروہوں میں بٹ گئے ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی میں مگن ہے۔‘‘ [۳۰/الروم:۳۲] اس کی وجہ یہ ہے کہ جس مذہبی یا سیاسی فرقہ کا آغاز بدعتی عقیدہ یا بدعتی عمل سے ہو تاہے، مثلا: کسی رسول یا بزرگ کو اس کے اصلی مقام سے اٹھا کر اللہ کی صفات میں شریک بنا دینا، یہی وہ غلو فی الدین ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ پھر یہ فرقہ بازی عموماً دو قسم کی ہوتی ہے۔ ٭ ایک مذہبی جیسے کسی امام کی تقلید میں بایں طور انتہا پسندی سے کام لینا کہ اس امام کو منصب رسالت پر بٹھا دینا گویا وہ معصوم عن الخطا ہے یا کسی معمولی اختلاف کو کفر و اسلام کی بنیاد قرار دینا یا کسی اہم اختلاف کو باہمی رواداری کے خلاف خیال کرنا وغیرہ۔ ٭ دوسری سیاسی جیسے علاقائی، قومی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنا۔ درج ذیل عقائد اس فرقہ بازی کی زد میں آتے ہیں۔ 1۔ اللہ کے بجائے عوام کی بالادستی اور انہیں طاقت کا سرچشمہ قرار دینا۔ 2۔ اللہ کی ذات اور انبیاf کے معجزات کا انکار۔ 3۔ کچھ ائمہ کو معصوم اور مامون قرار دینا۔ الغرض جتنے بھی فرقے ہیں، خواہ مذہبی ہوں یا سیاسی،ان کا کوئی نہ کوئی عقیدہ یا عمل ضرور کتاب و سنت کے خلاف ہو گا۔ بدعی عمل کا تعلق سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہوتا لہٰذا کسی سنت کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کردینا یا کسی نئے کام کو ثواب کی نیت سے شروع کر دینا اس کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ دین میں پہلے کمی رہ گئی تھی جو اس ترمیم یا اضافہ سے پوری کی جارہی ہے۔ اعاذنا اللّٰہ عنہ اگرمزید غور کیا جائے تو گروہ بندی کی تہہ میں دو ہی اغراض پوشیدہ ہوتی ہیں۔ ایک مال کی محبت، دوسرے اقتدار کی چاہت، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’بکریوں کے کسی ریوڑ میں دو بھوکے بھیڑیے اتنی تباہی نہیں مچاتے جتنا مال کی محبت اور منصب کی چاہت کسی کے ایمان کو برباد کرتی ہیں۔‘‘ [ترمذی، الزہد:۲۳۷۶] اس فرقہ بندی سے محفوظ رہنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ قرآن اور صحیح احادیث کے مطابق زندگی بسر کی جائے اور اس سلسلہ میں دائیں، بائیں جھانکنے سے اجتناب کیا جائے۔ سوال: دور حاضر میں جماعت المسلمین والے صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، دوسروں کو فرقہ واریت کی پیداوار کہہ کر مسلمان خیال نہیں کرتے، ان کا کہنا ہے کہ جو ہمارے امیر کی بیعت کرے گا وہی مسلمان ہے جو بیعت سے انکار کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس جماعت کے متعلق وضاحت کریں؟