کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 471
ہم نے ایک عیسائی عورت کو اس کام کے لئے ملازم رکھا ہے۔ فیملی کے کسی فرد نے اعتراض کیا ہے کہ اس کے ہاتھوں تیار کیا ہوا کھانا جائز نہیں، اس سلسلہ میں ہماری شرعی راہنمائی فرمائیں۔ جواب: اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی اہلیہ کو صحت کاملہ و عاجلہ عنایت فرمائے، یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ آپ کو ضرورت کے مطابق کھانا تیار کرنے والا کوئی مسلمان مرد یا عورت باورچی نہیں مل سکا۔آپ نے مجبوراً کسی عیسائی عورت کی خدمات حاصل کی ہیں، ہمارے ملک میں عیسائی مرد یا عورت دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو اپنی نظافت و طہارت کا خیال نہیں رکھتے بلکہ انہیں گندگی اٹھانے اور نالیاں وغیرہ صاف کرنے کے لئے رکھا جاتا ہے اوردوسرے وہ ہیں جو عیسائی ہونے کے باوجود صفائی، نظافت اور طہارت کاخیال رکھتے ہیں، پہلی قسم کے عیسائی سے ہر انسان کو کراہت ہوتی ہے، صورت مسئولہ میں یقینا دوسری قسم سے کسی عیسائی عورت کا انتخاب کیا گیا ہوگا۔ اہل کتاب کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلا ل ہے اور تمہارا کھاناان کے لئے جائز ہے۔‘‘ [۵/المائدہ:۴] لفظ طعام اپنے عموم کے اعتبار سے ہر قسم کے کھانے کے لئے استعمال ہو ا ہے، اگرچہ اکثر مفسرین نے اس کا معنی ذبیحہ کیا ہے۔ جب ان کا کھانا استعمال کیا جاسکتاہے اور ان کا ذبیحہ بھی کام میں لایا جاسکتا ہے تو ان کے ہاتھ کی پکی ہوئی چیز کھانے میں کیا امر مانع ہے۔ اگر عیسائی عورت طہارت و نظافت کا خیال رکھتی ہے تو اسے گھر میں کھانا وغیرہ تیارکرنے کے لئے ملازم رکھنا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر کے موقع پر ایک یہودیہ عورت کے ہاں کھانا تناول فرمایا تھا، کھانے میں پیش کردہ بکری کے گوشت میں یہودیوں نے زہرملا دیا تھا۔ اس کی تفصیل احادیث میں موجود ہے۔ [ صحیح بخاری، المغازی:۴۲۴۹] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کے تحت لکھا ہے کہ اہل کتاب کا کھانا تناول کرنا اور ان کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے۔ [فتح الباری، ص:۶۲۳،ج۷] گھر کا باورچی گھر کا بھیدی ہو تاہے ۔ اس اعتبار سے کر سچن عورت پر کڑی نظر رکھی جائے، اس کا عیسائی ہونا کھانا وغیرہ تیار کرنے اور اسے پیش کرنے کے لئے کوئی مانع امر نہیں ہے۔ البتہ راز داری، دیانت اور نظافت و طہارت کے پہلو کو ضرور دیکھ لینا چاہیے، شرعی طور پر اس مشروط اجازت کے باوجود کسی مسلمان باورچی کی تلاش جاری رکھنا چاہیے۔ [واللہ اعلم] سوال: میں نے بکر سے فون پرسونے کا سودا کیا، قیمت اور وزن متعین ہے، لیکن قیمت کی ادائیگی ایک ہفتہ کے ادھار پر طے ہوئی، دو تین دن بعد بکر نے مجھے فون کیا کہ تمہارا سونا فروخت کردوں، جبکہ میں نے اس پر قبضہ نہیں کیا اور نہ اس کی قیمت ادا کی ہے۔ کیا اس طرح خرید و فروخت کا معاملہ جائز ہے؟ جواب: ہمارے ہاں مارکیٹ اور منڈیوں میں اکثر سودے اسی طرح ہو تے ہیں کہ فون پر مال خریدا جاتاہے، پھر اس کو دیکھے یا قبضہ میں لئے بغیر آگے فروخت کردیا جاتاہے۔ حالانکہ شرعاً ایسا جائز نہیں ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ بازار کے بلند مقام میں غلہ خریدتے اور اسی جگہ فروخت کردیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرمایا کہ ’’غلہ وہیں فروخت نہ کریں بلکہ وہاں سے کہیں اور منتقل کرنے کے بعد فروخت کریں۔‘‘ [مسند امام احمد، ص:۵۶،ج۱]