کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 465
محمود کی بیٹی رقیہ، لیکن شادی کے بعد اس نسبت کو ترک کرکے اپنے خاوند کی طرف خود کو منسوب کرتی ہیں، مثلا: ’’رقیہ عامر‘‘ یعنی عامر کی بیوی، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جواب: دور جاہلیت میں لوگ لے پالک کو اپنی طرف منسوب کرلیتے تھے اور اسی نسبت سے اسے پکاراکرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی اور ہمیں آگاہ کیا کہ ’’ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے باپوں کے نام سے ہی پکارا کرو، اللہ کے ہاں یہی انصاف کی بات ہے۔‘‘ [۳۳/الاحزاب:۵] اس آیت کا تقاضا ہے کہ انسان مرد ہو یا عورت اس کی نسبت حقیقی باپ کی طرف ہونی چاہیے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے کہ لوگوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکارا جائے، پھر اس کے تحت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’قیامت کے دن ہر غدار کے لئے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے۔‘‘ [صحیح بخاری، الادب: ۶۱۷۷] شارح صحیح بخاری ابن بطال کہتے ہیں کہ باپ کے نام سے پکارنا ہی پہچان میں زیادہ واضح اور امتیاز میں زیادہ بلیغ ہے اور قرآن و حدیث کے دلائل بھی اس بات پر دلالت کرتے ہیں۔ [شرح بخاری، ص: ۳۵۴، ج۹] جب قیامت کے دن باپ کی نسبت ہی تعارف کا ذریعہ ہو گی تو دنیا میں یہ نسبت اختیار کرنے میں کیا قباحت ہے۔ کتب حدیث میں جہاں فلاں بن فلاں کے نام استعمال ہوتے ہیں، اسی طرح عورتوں کے لئے فلاں بنت فلاں کے الفاظ آئے، حالانکہ ان میں اکثر خواتین شادی شدہ تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا شادی سے پہلے بھی عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما اور شادی کے بعد بھی انہیں اسی نسبت سے پکارا جاتا تھا۔ کسی موقع پر ’’عائشہ محمد‘‘ نہیں کہا گیا۔ اس لئے ہمارا رجحان اسی طرف ہے کہ شادی کے بعد بھی خواتین کو اپنے باپ کی نسبت سے پکارا جانا زیادہ مناسب ہے۔ معاشرتی طور پر نئی نسبت کو اختیار کرنے میں کئی ایک قباحتیں ہیں، مثلا: بچی جب اٹھارہ سال کی ہو جاتی ہے تو ا س کا شناختی کارڈ باپ کے نام سے بنتا ہے۔ شادی کے بعد اسے تبدیل کرنے کی زحمت اٹھانی پڑتی ہے اور خاوند کی نسبت سے نیاشناختی کارڈ بنانا پڑتا ہے۔ جب میاں بیوی سے کسی وجہ سے علیحدگی ہو جاتی ہے تو مزید تکلیف سے دوچار ہونا پڑتاہے، کیونکہ قانونی کاغذات میں اس کا نام اپنے شوہر کے نام کے ساتھ منسلک ہو تاہے، جبکہ شوہر اس کے لئے اجنبی ہو چکا ہوتا ہے۔ جب وہ آگے کسی نئے مرد سے شادی کرتی ہے تو اسے مزید الجھن سے دوچار ہو نا پڑے گا، جیسے جیسے اس کی زندگی میں خاوند وفات، طلاق اور خلع کی وجہ سے تبدیل ہوتے ہیں ، اسی طرح اس کی شناخت بھی تبدیل ہو تی رہے گی۔ اگر ہر بار شناختی کارڈ تبدیل کرانا پڑے تو یہ ایک درد سر ہے، دراصل مغربی تہذیب نے ہمارے ذہنوں کو خراب کیا ہے۔ اسلام نے تو ہماری شناخت باپ سے کی ہے جو کسی صورت میں تبدیل نہیں ہو تی۔ یہ نسبت دنیا اور آخرت میں برقرار رہے گی، اس لئے ہمیں چاہیے کہ اسی نسبت کو برقرار رکھیں تاکہ پریشانیوں اور الجھنوں سے محفوظ رہیں، ہماری اسلاف خواتین کا بھی یہی طریقہ تھا اور اب بھی بعض مسلم خواتین اپنے نام کے ساتھ اپنے باپ کا نام لگانا ہی پسند کرتی ہیں۔ اسلامی طرز عمل کو اختیار کرنے میں خیر و برکت ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ریڈیو،ٹی وی پر یہ حدیث بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں علم کا شہر ہوں