کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 464
آرمی کے سراغ رسانی کے کتوں کے ذریعے جرم ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں صرف گواہی کی تائید میں پیش کیا جاسکتاہے، کیونکہ ان کتوں کے سونگھنے کی قوت اگرچہ بہت تیز ہوتی ہے، تاہم بعض اوقات ان سے خطا ممکن ہے۔ ایسے واقعات بھی ہمارے سامنے ہیں کہ سراغ رسانی کے کتے تھک ہانپ کر ایک جگہ بیٹھ گئے۔ فوجی حضرات نے جہاں بیٹھے تھے انہیں کو جرم میں دھر لیا، لہٰذا کتوں وغیرہ سے جرم ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتیں اور پولیس انہیں تسلیم نہیں کرتے۔ اگرجرم ثابت نہ ہوتو ملزموں سے قسم لی جائے گی اگرچہ ان کی ثقاہت مجروح ہی کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک شخص قتل ہوا، مقتول کے ورثا نے یہو د پر الزام لگایا کیونکہ ان کے علاقہ میں مقتول پایا گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’تم اس پر گواہ پیش کرو کہ واقعی انہوں نے قتل کیا ہے یا پھر یہودیوں میں سے پچاس آدمی قسم اٹھا کر اس الزام سے بری ہو جائیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہود کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقتول کی دیت بیت المال سے ادا کردی تاکہ مسلمان کا خون ضائع نہ ہو۔ [صحیح بخاری ، حدیث نمبر: ۲۷۰۲] لیکن ملزمان کی بجائے دوسروں سے قسم لینا اس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ دوسرے آدمی ان سے قسم لے کر ان کی طرف سے صفائی دے سکتے ہیں لیکن ان کی جگہ پر وہ قسم اٹھائیں اس کا ثبوت محل نظر ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: اگر کوئی مقروض، قرض کی ادائیگی کے وقت قرض خواہ کو قرض سے زیادہ رقم ادا کرے جبکہ پہلے یہ اضافہ طے شدہ نہ ہو تو کیا ایسا کرنا بھی سوداور ناجائز ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں۔ جواب: جس انسان نے کسی سے قرض لیا ہے اس کے ذمے صرف اتنی ہی رقم واپس کرنا ضروری ہے، خیر خواہی کے طور پر کسی کو قرض دینے کی بہت فضیلت ہے۔ حدیث میں اس فضیلت کی بایں الفاظ وضاحت ہے کہ ’’کوئی بھی مسلمان جب کسی مسلمان کو دو مرتبہ قرض دیتا ہے تو اس کے ایک مرتبہ صدقہ کرنے کی طرح ہو تا ہے۔‘‘ [ابن ماجہ، الاحکام:۲۴۳۰] اگر پہلے سے کوئی اضافہ یا فائدہ طے شدہ نہ ہو تو قرض کی رقم سے افضل یا زیادہ دیناجائز ہے۔ چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ میرا آپ کے ذمے کچھ قرض تھا۔ آپ نے مجھے وہ قرض ادا کیا اور اس سے کچھ زیادہ بھی دیا۔ [صحیح بخاری، الاستقراض:۲۳۹۴] اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے کسی شخص کا اونٹ قرض تھا۔ جب وہ شخص اس کا تقاضا کرنے آیا تو آپ نے صحابہ کرام کو اس کی ادائیگی کے متعلق حکم دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس عمر کا اونٹ تلاش کیا لیکن نہ مل سکا، البتہ اس سے زیادہ عمر کا اونٹ مل گیا۔ آپ نے فرمایا:’’ اسے یہی اونٹ دے دو۔‘‘ اس پر اس شخص نے کہا آپ نے مجھے پورا پورا حق دیا ہے۔ [صحیح بخاری، حدیث: ۲۳۰۵] بہرحال اگر قرض لیتے وقت کوئی شرط طے نہیں کی گئی تو ادائیگی کے وقت مقروض اپنے قرض سے بہتر یا زیادہ دے سکتا ہے۔ شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، البتہ شرح سود طے کرکے اضافہ کے ساتھ رقم واپس کرنا سخت منع ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: ہمارے ہاں معاشرتی طور پر خواتین شادی سے پہلے خود کو اپنے والد کی طرف منسوب کرتی ہیں، مثلاً: ’’رقیہ محمود‘‘ یعنی