کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 459
ایسے حالات میں مجھے ٹی وی رکھنے کی اجازت ہے؟ جواب: ٹیلی ویژن دورحاضر کا ایک ایسا فتنہ ہے کہ اس کے متعلق نرم گوشہ رکھنے والوں کا ضمیر بھی چیخ اٹھا ہے کہ اس کے دیکھنے سے بچوں کے اخلاق و عادات میں بگاڑ پیداہو رہا ہے، جیسا کہ سوال میں اس کی وضاحت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جو لوگ ایمانداروں میں فحاشی پھیلانا چاہتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں سزا کے حق دار ہیں‘‘۔ [۹/التوبۃ:۱۹] اس آیت کریمہ کی زد میں وہ تمام ذرائع ووسائل آجاتے ہیں جو فحاشی پھیلانے، بے حیائی عام کرنے، بداخلاقی کی تعلیم دینے، بے راہ روی پر اکسانے صنفی جذبات بھڑکانے، جنسی خواہشات ابھارنے اور رقص و سرود کا سامان مہیا کرنے میں پیش پیش ہیں۔ٹیلی ویژن، اگرچہ دنیاوی لحا ظ سے بے شمار فوائد و منافع کا حامل ہے لیکن دینی او راخلاقی اعتبار سے انتہائی نقصان دہ اور ضرر رساں واقع ہوا ہے۔ بالخصوص نئی پود میں آوارگی اور نوجوانوں میں حیا باختگی پیدا کرنے میں اس نے بہت نمایاں کردار ادا کیا ہے، ہمارے نزدیک ٹیلی ویژن کے دنیاوی فوائد کے پیش نظر اس کے گھر میں رکھنے کے جواز مہیا کرنا ایک چور دروازہ کھولنا ہے۔ جس کے ذریعے شیطان اور اس کی ذریت کو اپنے گھر کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اس کے مفاسد کے پیش نظر مکمل طور پر اس سے اجتناب کرنا چاہیے اور بچوں کو سختی سے منع کرنا چاہیے، اس لئے اگر بچوں کو تھوڑی بہت سزا دی جائے تو اس سے بچوں کے اخلاق متاثر نہیں ہو ں گے، جیسا کہ سائل نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے ۔ اسلامی غیرت اور دینی حمیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ٹیلی ویژن کے متعلق اپنے اندر کوئی نرم گوشہ نہ رکھا جائے ، اس کے نقصانات کی مختصر جھلک یہ ہے کہ ٹیلی ویژن ایسے حیا سوز ڈرامے اور فحش مناظر پیش کرتا ہے کہ انہیں دیکھ کر با حیا انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ چوری ، ڈکیتی، مار دھاڑ کی عملی تربیت دی جاتی ہے جس سے امن عامہ تباہ و برباد ہو رہا ہے، نیز اخلاق و کردار کو بگاڑنے میں بڑا مؤثر کردار سر انجام دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ تصویر کو اس میں نمایاں حیثیت دی جاتی ہے جو فتنہ و فساد کی اصل بنیاد ہے۔ جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہے، ان کے علاوہ اور بھی بے شمار نقصانات ہیں جن کے پیش نظر اس سے کلی اجتناب کرنا ہی مناسب ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: مجلہ اہلحدیث میں شائع ہونے والے احکام و مسائل سے عوام کے ساتھ ساتھ اہل علم بھی برابر مستفید ہو رہے ہیں کیونکہ آپ کے فتاوی میں اعتدال پسندی اور قوت استدلال ہوتی ہے، مثلاً: عقیقہ کے جانور کے متعلق بہت سے علما تک مغالطہ کا شکار ہیں، اس سلسلہ میں وہ دو دانتہ کی شرط لگاتے ہیں، پھر کچھ حضرات گائے ،بیل میں سات عقیقوں کی بات بھی کرتے ہیں۔ بحمد اللہ آپ نے بہت سے شکوک و شبہات کو دور کر دیا ہے، آپ کے ایک فتویٰ میں لونڈی کے متعلق مفصل معلومات تھیں۔ ایک بات اب بھی تشنہ ہے کہ اگر لونڈی غیر مسلم ہے تو تمتع کی صورت میں اگر اس سے اولاد پیدا ہوتو وہ ام ولد کہلائے گی جبکہ وہ تاحال غیر مسلم ہے؟ جواب: احکام و مسائل کے کالم میں پیش کردہ فتاوی کے اسلوب و انداز کے متعلق قارئین کرام کی طرف سے اس قسم کے حوصلہ افزا جذبات پر مشتمل متعدد خطوط اور فون موصول ہوتے رہتے ہیں، راقم ان تمام حضرات کا تہہ دل سے شکر گزار ہے جو اپنی مخلصانہ دعائوں میں اس عاجز و ناتواں کو یاد رکھتے ہیں۔ دراصل اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے یہ محض میرے اللہ کا فضل اور اس کا انتہائی کرم ہے کہ اس نے مجھے یہ فریضہ سر انجام دینے کی توفیق دے رکھی ہے۔ بصورت دیگر ’’من آنم کہ من دانم‘‘