کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 456
[صحیح بخاری، الطب،۵۷۶۴] جس طرح جادو کرنا بہت سنگین جرم ہے ، اسی طرح جادوگروں کی باتوں پر یقین کرنا بھی انتہائی خطر ناک گناہ ہے۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں جائیں گے شراب پینے والا، قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے والا اور جادوگر کی باتوں پر یقین کرنے والا۔‘‘ [مسند امام احمد، ص۳۹۹، ج۴] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا موقف تھا کہ جادو گر کو قتل کردیا جائے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے ایک سال قبل سرکاری فرمان جاری کیا تھا جس کے الفاظ یہ ہیں۔ راوی کہتا ہے ۔ ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک سال وفات سے قبل ان کا خط ہمیں موصول ہوا۔ انہوں نے فرمایا، ہر جادوگر مرد اور عورت کو قتل کردو، چنانچہ ہم نے تین جادوگر عورتوں کو قتل کیا۔ [مسند امام احمد، ص:۱۹۰، ج۱] لیکن ہمارے ہاں اسلامی قانو ن نہیں ہے کہ جادو گر کو قتل کردیا جائے، اس لئے اس طرح کے’’کاٹ کے ماہر، کایا پلٹ‘‘ عاملوں کو تحفظ حاصل ہے، جادو گرکو قتل کرنا حکومت کا کام ہے۔ ہمیں قانون کو ہاتھ میں لے کر یہ اقدام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سوال: گھوڑے کی حلت و حرمت کے متعلق قرآن و حدیث کا کیا فیصلہ ہے؟ دلائل سے بیان کریں۔ جواب: واضح رہے کہ گھوڑا حلا ل ہے اور متعدد روایات میں اس کی حلت منقول ہے، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا۔ [صحیح بخاری، الذبائح،۵۵۱۹] ایک روایت میں ہے کہ ہم نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت نے اس کا گوشت کھایا۔ [دار قطنی، ص:۲۹۰ ، ج۴] حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خیبر کے دن گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا اور گھوڑے کے گوشت کو کھانے کی اجازت دی۔ [صحیح بخاری، الذبائح،۵۵۲۰] بعض روایات میں ہے کہ ہم نے خیبر کے دن گھوڑے کا گوشت کھایا۔ [ صحیح مسلم، الصید،۵۰۲۲] ائمۂ کرام میں سے صرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف سے اس کی حرمت منقول ہے، البتہ امام ابو یوسف اور امام محمد; نے اپنے استاد سے اختلاف کرتے ہوئے اس کی حلت کا فتوی دیا ہے۔ [کنز الدقائق،ص:۲۲۹ مترجم ، فارسی] محدث ثناء اللہ پانی پتی حنفی لکھتے ہیں کہ گھوڑا حلا ل ہے۔ [مالا بدمنہ، ص: ۱۱۰] مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں کہ گھوڑوں کا کھانا جائز ہے بہتر نہیں ہے۔ [بہشتی زیور، ج۵،ص:۵۶] کتب فقہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اپنی وفات سے تین دن پہلے گھوڑے کی حرمت سے رجوع کرلیا تھا۔ (در مختار) مختصر یہ ہے کہ گھوڑا حلا ل ہے، اگر طبیعت نہ چاہے تو اس کا کھانا ضروری نہیں، لیکن حلال کہنے والوں پر طعن و تشنیع درست نہیں ہے۔امام محمد رحمہ اللہ نے صاف اعلان کیا ہے کہ ہم گھوڑے کے گوشت کے متعلق کوئی حرج محسوس نہیں کرتے۔ [کتاب الآثار،ص:۱۸۰] اس بنا پر احناف کو اس مسئلہ کے متعلق سختی نہیں کرنی چاہیے۔ [ واللہ اعلم] سوال: الیکشن کی شرعی حیثیت کیا ہے، جماعتی اختلافات ختم کرنے کے لئے الیکشن یا انتخاب کا شرعی طریقہ کیا ہے، کیا الیکشن