کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 450
کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے ذبیحہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ اگر کسی انسان میں شرک کے اسباب موجود ہوں تو اسے مشرک قرار دینے کے لئے ضروری ہے کہ وہاں کوئی موانع نہ ہوں۔ اگر اسباب کے ساتھ کوئی رکاوٹ یا مانع موجود ہو تو انہیں مشرک نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس موضوع پر راقم نے مورخہ۲۷جولائی بمقام دفتر ’’محدث‘‘ ،ماڈل ٹائون لاہور میں ایک درس دیا تھا اور وہ دفتر محدث سے مل سکتا ہے۔ اس میں وضاحت کی تھی کہ کسی کو مشرک یا کافر قرار دینے کے اسباب ، ضوابط، شرائط اور موانع کیا ہیں۔قرآن وحدیث میں ہمیں اس بات کا پابند بنایاگیا ہے کہ ہم حلال اور طیب مال استعمال کریں، اس سلسلہ میں (اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ) کثرت سے پڑھا کریں، اس میں بہت خیر و برکت ہے۔ سوال: گولڈن کلر یعنی سونے کے رنگ کی کلائی گھڑی پہننا جائز ہے یا نہیں، اگرچہ اس کا چین سونے کا نہیں ہوتا لیکن اس پر سونے کا پانی ضرور ہوتا ہے؟ کتاب وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں۔ جواب: قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ان سے دریافت کریں کہ کس نے اللہ تعالیٰ کی اس زینت کو حرام کیا ہے، جسے اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیاہے۔ [۷/الأعراف:۳۲] اس آیت کریمہ کی رو سے انسان کے لئے ہر قسم کی زینت کا استعمال حلال ٹھہرتا ہے لیکن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لئے ہر قسم کی زینت مطلق طور پر حلال نہیں ہے بلکہ اس کے لئے کچھ حدود ہیں۔ جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ اس زینت کی حرمت نص قطعی سے ثابت نہ ہو، جیسا کہ سونے اور ریشم کے متعلق حدیث میں ہے کہ ان کا استعما ل عورتوں کے لئے جائز اور مردوں کے لئے ناجائز ہے۔فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کیلئے حرام کیا گیا ہے۔‘‘ [مسند امام احمد، ص:۳۹۲، ج۴] ٭ اس زینت سے نمو د و نمائش اور ریا کاری مقصودنہ ہو ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ’’مجھے تمہارے متعلق زیادہ اندیشہ شرک اصغر، یعنی ریاکاری میں مبتلا ہوجانے کا ہے۔‘‘ [مسند امام احمد، ص:۴۲۸، ج۵] ٭ عورتوں سے مشابہت کرنے کے لئے اس زینت کو استعمال نہ کیا گیا ہو۔ حدیث میں ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔‘‘ [مسند امام احمد، ص:۳۳۹، ج۱] ٭ زینت اختیار کرتے وقت غیر مسلم اقوام کی نقالی مقصود نہ ہو، جیسا کہ ہمارے ہاں بعض منچلے شوق فضول کی خاطر گلے میں صلیب وغیرہ لٹکالیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مرتبہ یہود و نصارٰی کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا، نیز آپ نے فرمایا کہ ’’جو انسان کسی دوسرے کی نقالی کرتا ہے، وہ انہیں سے شمار ہو گا۔‘‘صورت مسئولہ میں مذکورہ بالا حدود و قیود کی پابندی کرتے ہوئے گولڈن کلر، یعنی سونے رنگ جیسی کلائی گھڑی استعمال کی جاسکتی ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: ایک شخص حدیث اور کتب حدیث پر اس طرح تنقید کرتا ہے کہ ان کی توہین کا پہلو نمایا ں ہوتا ہے، نیز حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی صحابیت کا بھی منکر ہے، اس کے علاوہ وہ کہتا ہے کہ اسلام میں پہلا اختلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ڈالا۔ کیا اس طرح کے عقائد رکھنے والے کو مسجد کا ممبر بنایا جاسکتا ہے؟ بالخصوص جبکہ اندیشہ ہو کہ یہ اپنے فاسد عقائد و نظریات دوسرے نمازیوں میں