کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 449
ممکن ہوتا اپنے چہرے اور جسم پر انہیں پھیرتے۔ [بخاری، الطب:۵۷۵۰] دوسروں پر بھی دم کرتے، جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما پر دم کیا کرتے تھے۔ [بخاری، الانبیاء:۳۳۷۱] دوسروں کو دم کرنے کا حکم بھی دیتے تھے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر ایک لونڈی کا چہرہ زرد رنگ کا دیکھا تو فرمایا: ’’اسے دم کرو کیونکہ اسے نظر بد لگی ہوئی ہے۔‘‘ [بخاری، الطب:۵۷۳۹] دم کرکے اجرت لینا بھی جائز ہے، جیسا کہ مخصوص حالات کے پیش نظر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ایک سردار پر سورۂ فاتحہ سے دم کرنے کی اجرت طے کی تھی۔ پھر دم کرکے فیس وصول کی، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برقرار رکھا، بلکہ حوصلہ افزائی کے طور پر فرمایا: ’’اس میں میرا بھی حصہ رکھو۔‘‘ [بخاری، الطب:۵۷۴۹] لیکن دم کرنے کے لئے ہمہ وقتی سروس اور اسے پیشہ یا ذریعہ معاش بنانا کسی صورت میں صحیح نہیں ہے، کیونکہ اولاً: اس کے لئے ہمہ وقت کی فراغت اور اسے پیشہ بنانے کا ثبوت اسلاف سے نہیں ملتا۔ ثانیاً: ایسا کرنے سے دم کے بجائے دم کرنے والے کی اہمیت زیادہ بڑھ جاتی ہے حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ دم اصل اور دم کرنے والا اس کے تابع ہے، اس لئے ہر وہ ذریعہ جو کلام اللہ اور دم کی ثقاہت کمزور کرے اس کا سد باب بہت ضروری ہے، لہٰذا دم کرنا اور اس پر اجرت(فیس) لینا تو جائز ہے لیکن ہمہ وقتی سروس کی صورت میں اسے ذریعہ معاش بنا لینا جائز نہیں ہے۔ واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر چہ کسی صحابی پر دم کرکے معاوضہ وغیرہ نہیں لیا، تاہم دم کے عوض طے شدہ معاوضہ کے متعلق یہ ضرور فرمایا تھا کہ میرا بھی اس میں حصہ رکھو، جیسا کہ صحیح بخاری کے حوالہ سے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: مشرک کے ذبیحہ کے متعلق کیا حکم ہے، یعنی اس کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے، نیز جو شخص خود کو مسلمان کہلائے اور شرک کا ارتکاب بھی کرے اس کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟ جواب: ذبح کرنا بھی ایک عبادت ہے،جو مشرک سے قبول نہیں کی جاتی۔ اس لئے جو بنیادی طور پر مشرک ہیں ، مثلا: ہندو، سکھ اور بدھ مت وغیرہ ان کا ذبیحہ حرام ہے، البتہ اہل کتاب جو سماوی شریعت کے قائل ہیں۔ قرآنی صراحت کے مطابق ان کا ذبیحہ جائز قرار دیاگیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلا ل ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے جائز ہے۔‘‘ [۵/المائدہ:۵] اس آیت کریمہ میں کھانے سے مراد ذبیحہ ہے لیکن اس کے لئے بھی شرط ہے کہ حلال جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے، نزول قرآن کے وقت اہل کتاب کی دو اقسام میں شرک پایا جاتا تھا، جیسا کہ قرآن میں ہے کہ یہودی حضرت عزیر علیہ السلام اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے، ان کے باوجود ان کے ذبیحہ کو مشروط طور پر ہمارے لئے حلال قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح دور حاضر کے مسلمان جو معیاری نہیں ہیں ، البتہ کلمہ گو، نماز وروزہ کے قائل و فاعل ہیں، اگر بظاہر کوئی شرکیہ کام کریں تو ان کا ذبح کردہ جانور حرام نہیں ہوگا۔ ہاں، اگر شرک و بدعت کو اپنے لئے حلال سمجھتے ہوں، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر شرک کا ارتکاب