کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 446
جبکہ اس کا خاوند کسی فیکٹری میں معقول تنخواہ پر ملازمت کرتاہے، کیالڑکی کی تنخواہ گھر کے اخراجات کے لئے وصول کی جاسکتی ہے؟ جواب: شرعی طور پر لڑکی اپنی ملازمت کے دوران ملنے والی تنخواہ کی خود مالک ہے۔ وہ اپنی مرضی سے گھر کے اخراجات کے لیے صرف کرسکتی ہے۔ سسرال والوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اسے وصول کرنے کے لئے اس پر دبائو ڈالیں یا بزور وصول کریں۔ خاوند کو یہ حق تو پہنچتا ہے کہ وہ ملازمت نہ کرائے، لیکن وہ بھی زبردستی تنخواہ نہیں وصول کرسکتا۔ اس سلسلہ میں ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اس مسئلہ کو زیادہ طول نہ دیا جائے بلکہ گھر میں بیٹھ کر اسے افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔ لڑکے کے والدین کو خوش اسلوبی سے اس معاملہ میں قائل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن لڑکی کو بھی اس کے متعلق غور کرنا ہو گا کہ کہیں دنیا کی یہ دولت اس کی بربادی کا باعث نہ بنے۔ اصل بات گھر کی آبادی ہے۔ اس پر کسی صورت میں آنچ نہیں آنی چاہیے۔ سوال: شب براء ت کے متعلق وضاحت کریں کہ اس کی شریعت میں کیا حیثیت ہے، کیا اس دن روزہ رکھنا چاہیے؟ جواب: بعض ناقابل حجت روایات کی بنا پر لیلۂ مبارکہ سے مراد ماہ شعبان کی پندرھویں رات مراد لی گئی ہے۔ جس کا نام لوگوں نے شب براء ت رکھا ہے، پھر ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جس قدر فضائل و مناقب لیلۃ القدر کے متعلق احادیث میں وارد ہیں ان تمام کو شب براء ت کے کھاتے میں ڈال کر اسے خوب رواج دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماہ شعبان کے متعلق مندرجہ ذیل طرز عمل منقول ہے: ٭ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہ شعبان میں بکثرت روزے رکھتے دیکھا ہے۔ [صحیح بخاری، الصوم:۱۹۶۹] ٭ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کے پورے روزے رکھتے حتی کہ اسے ماہ رمضان سے ملا دیتے ۔ [ابودائود، الصوم:۲۳۳۶] شعبان کی پندرھویں تاریخ کو صرف ایک روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح شب براء ت کے قیام کی بھی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ سوال: ہمارے گھر سے تقریبا ایک کلو میٹر کے فاصلہ پر ٹیوب ویل واقع ہے ہم اس کے میٹر سے تار لاکر گھر میں بجلی استعمال کرتے ہیں اور صرف شدہ بجلی کا کمرشل بل بھی ادا کرتے ہیں۔ جوکہ گھریلو عام ریٹ سے کہیں زیادہ ہوتا ہے کیا ایسا کرنا ازروئے شریعت جائز ہے؟ جواب: یہ ایک اصولی بات ہے کہ معاشرہ میں رائج قوانین اگر شریعت کے خلاف نہ ہوں تو ان کی پابندی ضروری ہے، محکمہ واپڈا کا یہ قانون ہے کہ ہر صارف کو بجلی استعمال کرنے کے لئے ایک الگ میٹر مہیا کیا جاتاہے۔جو اس محکمہ کے مفاد میں ہے۔ایک ہی میٹر سے دوسرے صارف کو بجلی سپلائی کرنا واپڈا کے قوانین کے خلاف ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے خود محکمہ کے مفادات مجروح ہوتے ہیں۔ اگر کسی اہلکار نے اس کی اجازت دی ہے تو اسے قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے، لہٰذا ٹیوب ویل کے میٹر سے ایک کلو میٹر کے فاصلہ پر تار لے جاکر بجلی استعمال کرنا شرعاً و قانوناً درست نہیں ہے، کیونکہ ایسا کرنا محکمہ کے قوانین کے خلاف ہے۔ اگرچہ