کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 444
چاہیے۔‘‘ [مسند امام احمد، ص: ۱۷۷۷، ج ۲] اس حدیث کا تعلق سفر سے ہے، یعنی دوران سفر کسی کو امیر سفر بنا لینا چاہیے تاکہ اجتماعیت برقرار رہے اور نظم و ضبط کے ساتھ سفر جاری رکھ سکیں۔ چنانچہ حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جب تین آدمی سفر کو نکلیں تو کسی ایک کو امیر ضرور بنا لیں۔ ‘‘ [ابودائود، الجہاد،۲۶۰۸] حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی تو وہ سفر میں تھے تو ان کے شاگرد نافع رحمہ اللہ نے عرض کیا کہ اس حدیث کے پیش نظر آپ ہمارے امیر ہیں۔ [بیہقی،ص:۲۵۷، ج۵] واضح رہے کہ اس قسم کی امارات ’’امارات صغریٰ‘‘ کہلاتی ہیں۔ جس میں سفر کی زندگی کو ایک ضابطہ سے ادا کیا جاتا ہے، پھر انسان کو امارات کبریٰ کے قیام کے لئے کوشاں رہنا چاہیے۔ جسے قرآن نے ’’اولی الامر‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اس کی اطاعت مشروط ہوتی ہے۔ جب تک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق عمل پیرا ہوں گے۔ ان کی اطاعت ضروری ہے بصورت دیگر ان کی اطاعت ضروری نہیں۔ بہر صورت مندرجہ بالاحدیث سفر سے متعلق ہے کہ سفر کرتے وقت انسان کو چاہیے کہ اپنے سے بہتر کسی شخص کو امیر بنا کر اپنے سفر کو جاری رکھے، اس سے مراد حدود اللہ قائم کرنے والا امیر نہیں ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص لینا چاہتے تھے۔ اگر ایسا ہی تھا تو آپ نے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو عہدوں پر فائز کیوں کیا، نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے کیوں بیعت لی؟ جواب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احترام اور ان سے حسن ظن کا تقاضا یہی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خون عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص لینے کا ارادہ رکھتے تھے، باقی رہا قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو عہدوں پر فائز کرنے کا معاملہ، تو اس وقت بعض مصلحتیں درپیش تھیں جن کے پیش نظر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ اقدام کرنا پڑا، یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے باغیو ں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی از خود بیعت کی تاکہ وہ اس بیعت کی آڑ میں اپنا بچائو کرسکیں۔ چنانچہ وہ اس طرح اپنے مزعومہ مقاصد میں کسی حد تک کامیاب بھی رہے۔ بہرحال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق ہمیں غیر معمولی حد تک محتاط رہنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی مرضی کا مژدہ سنایا ہے۔ سوال: بدعت حسنہ کیا ہوتی ہے؟ جواب: بعض حضرات بدعت کی تقسیم کرتے ہیں کہ ایک بدعت حسنہ، یعنی بعض کام بدعت تو ہوتے ہیں، لیکن اچھے ہوتے ہیں۔ دوسری بدعت سیئہ، یعنی بعض کام بدعت بھی ہیں اور برے بھی ہیں۔ لیکن شریعت کی نظر میں ہر بدعت بری ہے۔ دراصل بدعت کے دو معنی ہیں: ایک لغوی اور ایک اصطلاحی۔ لغوی لحاظ سے ہر نئی چیز کو بدعت کہا جاتاہے، مثلاً: بجلی، ٹرین، ہوائی جہاز وغیرہ یہ تمام چیزیں دور اول میں نہ تھیں۔ اس لئے لغوی لحاظ سے انہیں بدعت کہا جاتا ہے۔ لیکن شریعت کی اصطلاح میں ہر نئی چیز کو بدعت نہیں کہا جاتا بلکہ دین میں کوئی نیا طریقہ نکالنا اور اس طریقہ کواز خود مستحب، لازم یا مسنون قرار دینا بدعت کہلاتا ہے۔ اس اعتبار سے کوئی بدعت اچھی نہیں ہوتی بلکہ ہر بدعت بری ہی ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: قرآن مجید کے بوسیدہ اوراق کو کیا کرنا چاہیے؟