کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 443
متفرقات سوال:شیخ الحدیث یا فتویٰ دینے کا عہدہ کن لوگوں کے لئے مختص ہے؟ وضاحت فرمائیں۔ جواب: شیخ اپنے فن میں مہارت تامہ رکھنے والے کو کہتے ہیں۔ اگر ایک مسلمان عالم، علمِ حدیث میں مہارت و تجربہ رکھتا ہے تو اسے شیخ الحدیث کہا جاتا ہے۔ البتہ فتویٰ دینے کے لئے کچھ اضافی شرائط ہیں ۔یعنی مفتی کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسلمان، عاقل و بالغ اور شریعت کے متعلق وجہ البصیرت گہرائی اور گیرائی رکھنے والا ہو۔ یعنی بصیرت ایک اساسی اور بنیادی شرط ہے۔ نیز اس کے لئے بلند اخلاق اور باکردار ہونا بھی ضروری ہے، تاکہ لوگ اس کی بات پر اعتماد کریں۔ الغرض مفتی کے لئے ضروری ہے کہ وہ علوم اسلامیہ پر پوری پوری دسترس اور گردوپیش کے حالات و ظروف پر گہری نظر رکھتا ہو۔ اس کے علاوہ عجز و نیاز کے ساتھ اللہ کے حضور جھکنے والا، احتیاط کے دامن کو تھامنے والا، لوگوں سے حسن سلوک کا معاملہ کرنے والا اور پیچیدہ مسائل میں دیگر اہل علم سے مشورہ کرنے والا ہو۔ سوال: ایک عورت بچے کی پیدائش کے موقع پر دوران آپریشن فوت ہوجاتی ہے کیا اسے بھی شہادت کا رتبہ ملے گا، اگرچہ اس کی موت ڈاکٹر کی کوتاہی سے واقع ہوئی ہو؟ جواب: دوران زچگی فوت ہونے والی عورت کو شہداء میں شمار کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے کہ’’وہ عورت جو بچے کی پیدائش کے سبب فوت ہو جائے شہید ہے۔‘‘ [مسند امام احمد، ص:۲۰۱، ج۴] شرعی اصطلاح میں یہ شہادت صغریٰ ہے۔ دین اسلام کی سربلندی کے لئے میدان کار زار میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا شہادت کبریٰ ہے، لیکن دور حاضر میں زچگی کے آپریشن دو وجہ سے کئے جاتے ہیں: 1۔ رحم مادر میں بچے کی حالت بایں طور ہوتی ہے تاکہ نارمل طریقہ سے اس کی پیدائش ممکن نہیں ہوتی بلکہ ایسے حالات میں آپریشن ناگزیر ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں دوران آپریشن زچہ فوت ہو جائے تو وہ بلا شبہ شہداء میں ہو گی، اگرچہ اس کی موت ڈاکٹر کی کوتاہی سے ہی کیوں نہ ہو۔ 2۔ بچے کی پیدائش معمول کے مطابق ہونا ممکن ہوتی ہے، لیکن بطور فیشن پیدائش کے وقت تکلیف سے بچنے کے لئے آپریشن کا سہارا لیا جاتا ہے۔ حالانکہ زچگی کے دوران تکلیف کی شدت فطرت کے عین مطابق ہے اور اس تکلیف کی وجہ سے پیدائش ممکن ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں اگر بلا ضرورت آپریشن کا سہارا لیا جاتاہے تو اس دوران اگر موت واقع ہو جائے تو اسے شہداء میں شمار کرنا محل نظر ہے بلکہ ایسے حالات میں آپریشن کا سہارا لینا ہی خلاف فطرت ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ’’ تین آدمیوں کے لئے بغیرامیر شرعی رہنا جائز نہیں۔‘‘ یہ حدیث کس کتاب میں ہے اس کا مفہوم کیا ہے، نیز وضاحت کریں کہ وہ تین قسم کے لوگ کون کون سے ہیں؟ جواب: یہ حدیث مسند امام احمد سنن بیہقی اور ابودائود میں ہے۔ سوال میں مذکورہ الفاظ مجھے نہیں مل سکے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ آبادی سے باہر جب مکین ہوں تو انہیں اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنا لینا