کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 441
اس سلسلہ میں ایک مرفوع حدیث بھی مروی ہے۔ [سنن بیہقی ،ص:۲۸۹ ،ج۶] ان شواہد کی بنا پر قرض خواہ کو قطعی طورپر یہ حق نہیں ہے کہ وہ رقم لانے والے سے اپنی رقم کامطالبہ کرے، اس میں رقم لانے والابے قصور ہے ۔ [واللہ اعلم] ٭ عزیز واقارب پرزکوٰۃ خرچ کرنابہت فضیلت کاباعث ہے بشرطیکہ جن اقارب پرزکوٰۃ خرچ کرناہے ان کے اخراجات کی ذمہ داری خرچ کرنے والے پر نہ ہو، مثلاً: خاوند اپنی اولاداوربیوی پرزکوٰۃ سے خرچ نہیں کرسکتا ۔کیونکہ ان پرخرچ کرناباپ اورخاوند کی ذمہ داری ہے ۔البتہ بیوی اپنے خاوند پرزکوٰۃ وغیرہ خرچ کرسکتی ہے، چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیاہے کہ ’’اقارب کوزکوٰۃ دینا،پھر ایک حدیث بیان کی ہے کہ اقارب پرخرچ کرنے والے کودواجرملتے ہیں، صدقہ خیرات کرنے اورقرابت داری کالحاظ رکھنے کا۔‘‘ [صحیح بخاری ،الزکوٰۃ:۱۴۶۶] اگرچہ بعض علما کاموقف ہے کہ زکوٰۃ دیتے وقت وضاحت کردیناچاہیے کہ تعاون زکوٰۃ سے کیاجارہا ہے لیکن کتاب وسنت میں ہمیں کوئی ایسی دلیل نہیں مل سکی، جس سے اس قسم کی وضاحت کرنے کاثبوت ملتاہو، اس لئے عزیز واقارب کوزکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ اوراس کے لئے زکوٰۃ کی صراحت کرنے کی قطعاًکوئی ضرورت نہیں ۔ [واللہ اعلم ] ٭ قرآن کریم میں قرض کے متعلق صراحت ہے کہ اگرمقروض تنگ دست ہوتواسے ادائیگی کے لئے مزید مہلت دی جائے یااسے قرض معاف کردیاجائے ۔لیکن معافی کے لئے ضروری ہے کہ وہ برضاورغبت اوردل کی خوشی سے اسے معاف کرے۔ صورت مسئولہ میں اگرقرض خواہ نے خاموشی اختیار کی ہے تواسے مزید مہلت پرتومحمول کیاجاسکتاہے ۔لیکن اس خاموشی کو معافی کی علامت نہیں قراردیاجاسکتا ۔مقروض کوچاہیے کہ حالات درست ہونے پرقرض خواہ کی رقم واپس کرے یاپھروضاحت کے ساتھ وہ رقم اس سے معاف کرالے موہوم رویے پر قرض کے معاف ہونے کی بنیاد نہ رکھی جائے ۔ [واللہ اعلم ]