کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 440
کے وقت ان کی جماعت میں اضافے کاباعث بنتے تھے۔ جنگ وغیرہ میں مسلمانوں کی طرف سے کوئی تیرانہیں بھی لگ جاتا اوران میں سے کسی کوتلوارلگتی توزخمی ہوجاتا یا مر جاتا، ایسے لوگوں کے متعلق یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔ [صحیح بخاری ،التفسیر:۴۵۹۶] ان آیات میں ہجرت کی اہمیت کواجاگرکیاگیا ہے کہ جب کسی جگہ پررہتے ہوئے دین اسلام پرعمل کرنا مشکل ہوتووہاں سے ہجرت کر جاناچاہیے اوراپنے دین کوبچانے کے لئے فکر کرنی چاہیے۔ لیکن جب پورے عرب میں اسلام کابول بالا ہوگیاتوپھرہجرت کی ضرورت باقی نہ رہی، تاہم اگرکسی مقام پرایسے حالات پیداہوجائیں کہ مسلمانوں کوکسی خطہ میں رہتے ہوئے دینی شعائر بجا لانے ممکن نہ ہوں یاوہاں رہناکفر اوراہل کفر کے لئے تقویت کاباعث ہوتو انہیں وہاں سے ہجرت کرنالازم ہے تاکہ دینی اقدار کو بچایا جائے اورشعائر اسلام پرعمل کیاجائے۔ ہاں! اگرغیرمسلم ممالک میں رہتے ہوئے دینی شعائر بجالانے میں کوئی قدغن یاپابندی نہیں ہے ۔وہاں کے باشندے آسانی کے ساتھ اپنے اسلام پرعمل پیراہیں توان کے لئے وہاں سے ہجرت کرناضروری نہیں ہے۔ اس وضاحت کے بعدمولانا کامذکورہ فرمان محل نظر ہے کہ ’’اگرکوئی مسلمان غیرمسلم ملک میں مستقل طورپر رہائش پذیر ہے اوروہاں فوت ہوجائے توجنت کاوارثٖ نہیں رہے گا ۔‘‘پھر غیرمسلم ممالک سے ہجرت کرکے کس مسلم ملک کارخ کیاجائے جہاں پورااسلام نافذ ہو، بہرحال ہماری نظر میں آج کوئی غیرمسلم ملک ایسانہیں ہے جہاں مسلمانوں کااسلامی شعائر پرعمل کرنادشوار ہو۔ [واللہ اعلم] سوال: میں نے کسی شخص سے کچھ رقم لیناتھی ،میرے مطالبہ پراس نے کسی شخص کے ہاتھ روانہ کردی۔ رقم بھیجنے سے پہلے اس نے مجھ سے پوچھا کہ فلاں شخص کے ہاتھ رقم بھیج دوں ،میں نے کہا بھیج دیں، پھراس نے مجھے اطلاع کردی کہ رقم کی ادائیگی کے بعد کسی کے نقصان کاذمہ دارنہیں ہوں ،جوشخص رقم لارہاتھاراستہ میں اس کی جیب کٹ گئی ۔اس طرح وہ رقم مجھے نہیں مل سکی ،اب کیا رقم لانے والے سے مطالبہ کرسکتاہوں؟ ٭ میرے کچھ عزیز واقارب انتہائی غریب ہیں ،کیامیں انہیں بتائے بغیر زکوٰۃ سے ان کاتعاون کرسکتاہوں یازکوٰۃ کے متعلق وضاحت کرناضروری ہے ۔ ٭ میں نے کسی کاقرض دیناہے ،میں اسے مطلع کردوں کہ میں ادائیگی کی پوزیشن میں نہیں ہوں ،وہ خاموشی اختیارکرلے اور رقم کامطالبہ بھی نہ کرے۔ آیااس کے رویے سے یہ رقم معاف سمجھی جائے گی یااس کی ادائیگی کرناپڑے گی ؟ کتاب وسنت کی روشنی میں ان سوالات کے جوابات دیں۔ جواب: قرض کی رقم مقروض کے ذمے واجب الادا ہوتی ہے، قرض خواہ کے مطالبے پراس نے ادائیگی کابندوبست کردیااوربھیجنے سے قبل اس نے قرض خواہ سے پوچھاکہ آپ کی رقم فلاں شخص کے ہاتھ بھیج دوں؟ اس کے کہنے پراس نے رقم ارسال کر دی۔ اب مقروض بری الذمہ ہے ۔اب سوئے اتفاق سے وہ رقم چوری ہوگئی اورقرض خواہ تک نہ پہنچ سکی ،اس میں رقم لانے والے شخص کوموردالزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ کیونکہ اس کے پاس رقم امانت تھی جواس سے ضائع ہوگئی۔اکثر اہل علم کاموقف ہے کہ امانت کے ضائع ہونے پرکوئی تاوان نہیں بشرطیکہ امانت کی حفاظت میں کوئی کوتاہی نہ کی گئی ہو ۔حضرت ابو بکرصدیق، حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم نے اسی مؤقف کواختیار کیاہے۔ [مغنی لابن قدامہ، ص: ۲۵۷، ج۹]