کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 439
پاس مال بھی ہے اورمیری اولادبھی ہے میرے والد مجھ سے مال لیناچاہتے ہیں ،میں کیاکروں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تواورتیرامال تیرے والد کاہے۔‘‘ [ابن ماجہ ،التجارات :۲۲۹۱] ایک دوسری حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تمہارا سب سے اچھا کھاناوہ ہے جوتمہاری کمائی کاہواورتمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی سے ہے ۔‘‘ [ابن ماجہ ، التجارات :۲۲۹۲] شارحین نے اس حدیث کوبنیاد بنا کر لکھا ہے کہ والداپنے بیٹے کے مال سے جو چاہے کھاسکتا ہے مگربیٹا اپنے والد کے مال سے اس کی رضامندی کے بغیر نہیں کھاسکتا۔ فقہا نے لکھا ہے کہ والد اپنے بیٹے کامال درج ذیل شرائط کے ساتھ لے سکتا ہے ۔ 1۔ وہ بیٹے کواس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے ۔ 2۔ وہ ایسی چیزنہ لے جس کی بیٹے کوخود ضرورت ہو۔ 3۔ وہ ایک بیٹے سے لے کر دوسرے بیٹے کونہ دے ۔ 4۔ یہ لینا دینادونوں میں سے کسی ایک کابھی مرض موت میں نہ ہو۔ 5۔ والد کافراوربیٹامسلمان نہ ہو یعنی ان کے دین مختلف نہ ہوں ۔ ان شرائط کی موجودگی میں باپ اپنے ذاتی استعمال کھانے پینے اورلباس وغیرہ کے لئے جب چاہے، اپنے بیٹے کامال لے سکتا ہے ۔بعض حضرات نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ مال لیتے وقت بیٹے کی رضامندی بھی ضروری ہے جیساکہ حدیث میں ہے کہ ’’کسی مسلمان کامال اس کی رضامندی کے بغیرحلال نہیں ہے ۔‘‘ [مسند امام احمد، ص: ۷۲، ج۵] لیکن ہمارے نزدیک اس شرط کااطلاق عام انسانوں کے لئے ہے۔ابن ماجہ کی پیش کردہ حدیث کے مطابق باپ اس سے مستثنیٰ ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ہمارے ہاں ایک مولاناصاحب نے سورۂ نساء کی آیت نمبر: ۹۶کی تفسیربیان کرتے ہوئے کہا کہ اگرکوئی مسلمان غیرمسلم ممالک میں مستقل طورپررہائش پذیر ہے۔ وہ اگر فوت ہو جائے توجنت کاوارث نہیں ہوگا ،جبکہ ہمارے بے شمار دوست و احباب غیرمسلم ممالک میں رہائش پذیر ہیں؟ وضاحت فرمائیں۔ جواب: پہلے آیت کاترجمہ ملاخطہ کریں ،جس کی تفسیر میں مذکورہ بالابات کی گئی ہے ۔ارشادباری تعالیٰ ہے: ’’جولوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرنے آتے ہیں توان سے پوچھتے ہیں تم کس حال میں مبتلا تھے؟ وہ کہتے ہیں ہم زمین میں کمزورومجبورتھے ،فرشتے انہیں جواب میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے ،ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے جوبہت ہی بری جگہ ہے ۔مگر جومرد اورعورتیں اوربچے فی الواقع مجبور اوربے بس ہیں اوروہاں سے نکلنے کی کوئی تدبیر اور راہ نہیں پاتے امید ہے ایسے لوگوں کواللہ تعالیٰ معاف کردے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والااوربخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ [۴/النسآء:۹۷۔۹۸۔۹۹] حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ان آیات کے متعلق فرماتے ہیں کہ مکہ میں کچھ مسلمان لوگ تھے جو مشرکین کاساتھ دیتے اورمقابلہ