کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 436
ان اخراجات میں کھانا، پینا، علاج ،رہائش اور لباس وغیرہ شامل ہیں۔ خاوند کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق ان اخراجات کو پورا کرے اور اگر وہ ان اخراجات کی ادائیگی سے پہلو تہی کرتا ہے یا بخل سے کام لے کر پورے ادا نہیں کرتا تو بیوی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی بھی طریقہ سے خاوند کی آمدن سے انہیں پورا کرسکتی ہے، جیسا کہ حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے خاوند کے متعلق شکایت کی کہ میرا خاوند ابوسفیان رضی اللہ عنہ گھریلو اخراجات پورے طور پر ادا نہیں کرتا تو کیا مجھے اجازت ہے کہ میں اس کی آمدن سے اتنی رقم اس کی اجازت کے بغیر لے لوں، جس سے گھر کا نظام چل سکے ۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں! اس کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر اتنا لے سکتی ہو جس سے معروف طریقہ کے مطابق تیرے اور تیری اولاد کی گزر اوقات ہو سکے، یعنی گھر کا نظام چل سکے۔‘‘ [صحیح بخاری، النفقات:۵۳۶۴] امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: ’’اگر خاوند اخراجات پورے نہ کرے تو بیوی کے لئے جائز ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اس قدر لے لے، جس سے معروف طریقہ کے مطابق اہل خانہ کا گزارا ہو سکے۔‘‘ مندرجہ بالا احادیث کے پیش نظر اگر خاوند گھریلو اخراجات کی ادائیگی میں کنجوسی کرتا ہے تو بیوی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اتنی رقم لے سکتی ہے جس سے گھر کا نظام چل سکے لیکن یہ اجازت صرف ضروریات کے لئے ہے فضولیات کے لئے نہیں، نیز ایساکرنے سے بیوی، خاوند کے درمیان اختلاف اور تعلقات کے کشید ہونے کا اندیشہ ہے تو اس طریقہ سے اخراجات پورے نہیں کرنے چاہییں، کیونکہ بیوی، خاوند کے تعلقات کی استواری مقدم ہے ، اس بات کا فیصلہ بیوی خود کرسکتی ہے کہ ایسا کرنے سے تعلقات تو خراب نہیں ہوں گے، بہرحال ایسے حالات میں ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بیوی کو اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اس قدر رقم لینے کی شرعاً اجازت ہے۔ جس سے معروف طریقہ کے مطابق گزر اوقات ہو سکے۔ سوال: ہمیں ایک سوال موصول ہواتھا کہ اگر بیوی اپنی مرضی سے خاوند کے والدین کی خدمت نہ کرے توکیا خاونداپنی بیوی کواپنے والدین کی خدمت کے لئے مجبورکرسکتا ہے ،ہم نے جواب میں لکھاتھا کہ بیوی اپنے خاوند کے والدین کی خدمت میں کوتاہی نہ کرے ،یہ خدمت سسرال کاحق ہے ،دلیل کے طورپر ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کاحوالہ دیا تھا۔اس کے متعلق ہمیں خط موصول ہوا ہے کہ میں آپ کے جواب سے بخوبی اتفاق کرتاہوں لیکن آپ نے اپنے جواب میں اس کے متضاد پہلوکونظر اندازکردیاہے وہ یہ ہے کہ اگر خاوندکے والدین اوراس کے بہن بھائی ،خاوند کی بیوی کے ساتھ اچھاسلوک نہ کریں ۔توآپ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت نہیں فرمائی،آپ کاجواب تویکطرفہ فیصلہ ہے ،اس کے بعد ہمارے محترم نے اڑھائی صفحات پرمشتمل اپنی بیٹی پرروا رکھے جانے والے ظلم کی المناک اوردل سوزداستان رقم کی ہے ۔ جواب: ہمارے سامنے جب کوئی سوال آتا ہے ۔قرآن وسنت کی روشنی میں جواب تحریرکیاجاتا ہے۔ استثنائی حالات سے ہم بے خبر ہوتے ہیں، اس لئے ’’متضاد پہلوکونظرانداز کردینے ‘‘کاالزام ہمیں نہیں دیاجاسکتا اورنہ ہی ہمارے کسی جواب کو’’یکطرفہ