کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 433
نہیں ملتی، اس لئے ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس طرح کی رسومات سے اجتناب کرے۔جوقرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہیں اور انہیں کاموں پرعمل پیرارہے جس کاثبوت قرآن وسنت سے ملتا ہے ۔ [واللہ اعلم بالصواب] سوال: بیوی نافرمان اورسرکش ہوجوخاوند کے کہنے پرعمل نہ کرے ،جبکہ خاوند اسے برے کام کاحکم نہیں دیتا ہے، ایسے حالات میں خاوند کوکیاکرناچاہیے؟ جواب: بیوی کے لئے خاوند کاکہنامانناضروری ہے، بشرطیکہ خاوند اسے برائی پرآمادہ نہ کرے، اگرخاوند دیکھے کہ بیوی میں نافرمانی کی علامات ظاہر ہیں اوروہ اس کی بات کوتسلیم نہیں کرتی تواس سلسلہ میں قرآنی ہدایات پرعمل کرے، جوحسب ذیل ہیں: 1۔ خاونداسے وعظ و نصیحت کرے، اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرائے، اللہ تعالیٰ کے واجب کردہ احکام یاددلائے ۔ 2۔ اگر وعظ و نصیحت کانسخہ اس کے لئے مؤثر نہ ہوتوخاوند اسے اپنے بسترسے الگ کردے ۔ 3۔ اگرعلیحدگی کے بعد بھی نافرمانی پراصرار کرے تو اسے راہ راست پرلانے کے لئے خاوند،بیوی کو ایسی ہلکی مار،مارسکتا ہے جوزخمی نہ کرے اورجس سے ہڈی نہ ٹوٹے ،نیزچہرے پر نہ مارے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جن عورتوں کی نافرمانی اوربددماغی کا تمہیں خوف ہوتوپہلے انہیں نصیحت کرواورانہیں بستروں سے الگ کردو،اس کے بعد انہیں مارکی سزادو۔ ‘‘ [۴/النسآء:۳۴] اگرمذکورہ تمام مراحل کارگرثابت نہ ہوں بلکہ بیوی خاوند کے درمیان علیحدگی کاخدشہ ہوجائے توپھر دونوں کے خاندان والوں میں سے کچھ ایسے دیانتدار لوگوں کوحاکم بنایاجائے جومناسب سمجھیں توان کی آپس میں صلح کرادیں اوراگردیکھیں کہ ان کے درمیان علیحدگی ہی بہتر ہے تو طلاق یاخلع کے ذریعے علیحدگی کرا دیں، پنچائتی حضرات جوبھی فیصلہ کریں وہ بیوی اورخاوند کوتسلیم کرنا ہو گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اگرتمہیں خاونداوربیوی کے درمیان اختلاف اوران بن کاخدشہ ہوتوایک منصف مردوالوں اور ایک منصف عورت والوں کی طرف سے مقررکرلو،اگریہ دونوں صلح کرانا چاہیں تواللہ تعالیٰ دونوں میں ملاپ کرادے گا۔‘‘ [۴/النسآء: ۳۵] ان ہدایات سے پتہ چلتا ہے کہ عورت کی طرف سے نافرمانی اورسرکشی کاسامنا ہوتوسب سے پہلا مرحلہ اسے طلاق دے کرفارغ کردینانہیں ہے بلکہ اس سے پہلے چندایک مراحل ہیں جن پرعمل کرناضروری ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: ایک آدمی صرف نام کامسلمان ہے اوراپنے مذہب سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے ،نماز وغیر ہ بھی نہیں پڑھتا ، ایک حادثہ میں زخمی ہونے کی وجہ سے اس کی انتڑیاں باہر آگئی ہیں ،ایسے شخص کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے یاصرف متقی، سلفی اور موحد کوہی دینی چاہیے؟ جواب: زکوٰۃ کے متعلق شرعی ہدایت یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے جوصاحب ثروت ہیں ان سے وصول کرکے مسلمانوں ہی کے ضرورت منداورمحتاج حضرات پراسے تقسیم کر دیا جائے، جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کرتے وقت فرمایاتھا کہ ’’اہل یمن دعوت اسلام قبول کرلیں توان کے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کرکے ان کے فقراء پرتقسیم کر دی جائے۔‘‘ [صحیح بخاری ،الزکوٰۃ :۱۳۹۵] شریعت اسلامیہ نے کسی کااسلام دیکھنے کے لئے ہمیں اس بات کا پابند کیاہے کہ اسلام کی ظاہری اورموٹی موٹی واضح علامات