کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 432
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کوسند کے لحاظ سے ضعیف قراردیاہے۔ [ضعیف الجامع الصغیر، ص: ۱۹۲، ج۳] قرآنی آیات اوردیگر مؤیدات سے معلوم ہوتا ہے کہ معنی کے لحاظ سے یہ حدیث صحیح اورقابل حجت ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: ایک آدمی رمضان المبارک میں بلاعذرشرعی بے روزہ رہتا ہے جبکہ اس کی بیوی پابندی سے روزہ رکھتی ہے ، خاوند بیوی سے اپنی خواہش کااظہا ر کرتا ہے ،بیوی کے باربار انکار کے باوجود وہ باز نہیں آتا ،اب عورت مجبورہے ،اس کاروزہ ٹوٹنے پر اسے گناہ ہو گا یا نہیں، نیزخاوند کاکردارشریعت کی نظرمیں کیساہے، کیااس پرکوئی حد یاتعزیر لگائی جاسکتی ہے؟کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں ۔ جواب: واضح رہے کہ گھر میں رہتے ہوئے رمضان المبارک میں ہرعاقل وبالغ کے لئے روزہ رکھنافرض ہے بشرطیکہ وہ تندرست ہو،بلاوجہ روزہ ترک کرنا بہت سنگین جرم ہے ۔حدیث نبوی کے مطابق ایساانسان ہرقسم کی خیروبرکت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ قیامت کے دن وہ بڑی المناک سزاسے دوچارہوگا اورجوانسان کسی دوسرے کے روزے کوخراب کرنے کاباعث ہے وہ بھی اسی قسم کی سزاکاحقدار ہے ۔رمضان المبارک میں روزہ توڑنے کاکفارہ یاتاوان اس صورت میں پڑتا ہے جب پہلے روزہ رکھا ہو ا ہو،پھراسے خراب کردیاجائے ۔صورت مسئولہ میں خاوند نے ایک سنگین قسم کی غلطی کاارتکاب کیاہے جوشرعاًقابل تعزیر ہے لیکن قابل حد نہیں ہے، اسے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگناچاہیے ۔البتہ بیوی مجبوراوربے بس ہے اس پرکوئی گناہ نہیں ہے ،چونکہ اس کاروزہ ٹوٹ چکا ہے، اس لئے رمضان المبارک کے اس روزہ کی قضا دیناہوگی ،جب بھی موقع ملے اپنے خاوندکے علم میں لاکر روزہ رکھ لے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: چندلوگوں نے درج ذیل حدیث سے یہ مسئلہ ثابت کیاہے کہ کھانے پرختم پڑھناجائز ہے ۔حدیث میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جس کھانے اورسالن میں تم آیت الکرسی پڑھوگے اللہ تعالیٰ اس کھانے اورسالن میں برکت دے گا ۔‘‘ قرآن و حدیث سے اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں؟ جواب: واضح رہے کہ مروجہ ختم قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہے ۔کھانے پرختم دیناایجاد بندہ اورشکم سیری کا ایک بہانہ ہے۔ سوال میں جس حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے، تلاش بسیارکے باوجود نہیں مل سکی ۔فضائل قرآن اورآداب طعام کے ابواب میں ملنے کاامکان تھالیکن دستیاب نہیں ہوسکی ۔البتہ مذکورہ کتاب میں ایک حدیث یوں بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے اورپینے میں پھونک نہیں مارتے اورنہ ہی پینے کے برتن میں سانس لیتے تھے جبکہ ختم میں کچھ پڑھنے کے بعد پھونک ماری جاتی ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کااسوہ اس کے خلاف ہے، جیساکہ مذکورہ حدیث میں بیان ہوا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے کھانے میں اپنا لعاب مبارک ڈالاتھا اوربرکت کی دعاکی تھی اورحضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے کھانے پرکچھ پڑھا تھا ۔بعض حضرات اسی طرح کے واقعات سے کھانے پرختم دینے کامسئلہ کشیدکرتے ہیں، حالانکہ ان واقعات کاتعلق معجزات سے ہے اور معجزات دلیل نبوت تو ہوسکتے ہیں لیکن دلیل احکام نہیں بن سکتے۔ اس بنا پر کھانے پینے کی چیزوں پرتبرک کے طورپرختم دیناقرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،تابعین عظام رحمہم اللہ اور ائمۂ دین سے ایساکرنے کی کوئی دلیل