کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 43
کورب کہتا ہے اگر بادشاہ رب ہے توعلی ہجویری اور جیلانی رحمہما اللہ داتا اور غوث کیوں نہیں؟ قرآن پاک میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ اور اس کا رسول(صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے فضل سے تمہیں غنی کردے گا، یعنی اﷲ تعالیٰ کے سا تھ اس کے رسول بھی فضل فرماتے ہیں تو کیا یہ کہناصحیح ہے کہ یارسول اﷲ ! فضل کریں ؟ جواب: اﷲ تعالیٰ نے اس عالمِ رنگ وبو میں اپنی توحید قائم کرنے کے لیے متعدد کتابیں نازل فرمائیں اوربے شمار رسولوں کومبعوث کیا ،توحید یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے اسماء اور اس کی صفات، نیز اس کے حقوق واختیارات اوراحکام میں کسی مخلوق کو شریک نہ کیا جائے ، اگر کسی نے اﷲکے اسماء، اس کی صفات ،اس کے حقوق واختیارات اور احکام میں کسی مخلوق کوشریک ٹھہر ایاتو وہ اﷲ تعالیٰ کے ہاں مشرک ہے اگر توبہ کے بغیر اس جہاں سے رخصت ہوا توہمیشہ کے لیے اس پر جنت حرام اور جہنم واجب ہوگئی ۔داتا ،غوث اعظم، مشکل کشا اور غریب نواز یہ سب اﷲ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ بعض لوگ ان صفات کومخلوق میں تلاش کرتے ہیں، جیسا کہ سائل کے سوال سے واضح ہوتا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’کون ہے جوبے قرار کی پکار سنتاہے جبکہ وہ اسے پکار تا ہے اورکون اس کی تکلیف کورفع کرتا ہے اورکون ہے جوتمہیں زمین کاخلیفہ بناتا ہے کیا اﷲ تعالیٰ کے ساتھ اورکوئی اللہ بھی ہے ۔‘‘ [۲۷/النمل :۶۲] اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا سب سے بڑا فریاد سننے والا، یعنی غوث اعظم صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ ہے، عبدالقادر جیلانی نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’یقیناتوہی بہت بڑی عطادینے والا ہے۔‘‘ [۳/آل عمران :۸ ] اس آیتِ کریمہ سے پتا چلتا ہے کہ اﷲ ہی سب سے بڑھ کر دینے والا یعنی داتاہے علی ہجویری رحمہ اللہ داتا نہیں ہیں۔ انہوں نے توخود اپنی کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ میں اپنے متعلق داتا ہونے کی پرزور الفاظ میں تردید کی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کاارشاد ہے: ’’اے لوگو! تم سب اﷲ تعالیٰ کے درکے فقیر ہووہ اﷲ توغنی وحمید ہے۔ ‘‘ [۳۵/فاطر :۱۵] اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ ہی غریبوں کونوازنے والا ہے اس کے علاوہ اورکوئی غریب نواز نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اگر اﷲ تعالیٰ تمہیں کسی مشکل میں ڈال دے تو اس کے علاوہ اسے کوئی دور کرنے والانہیں ہے اوراگر وہ تمہیں کوئی خیر پہنچاناچاہے تو اس کے فضل کوکوئی ہٹانے والا نہیں۔‘‘ [۱۰/یونس :۰۷ا] اس آیت سے پتا چلتا ہے کہ تمام مشکلات حل کرنے والا، یعنی مشکل کشا صرف اﷲ تعالیٰ ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نہیں ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہرنماز کے بعد ایک دعا پڑھا کرتے تھے جس میں یہی مضمون بیان ہوا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے :’’اے اﷲ ! جسے تودے اسے کوئی روکنے والا نہیں اورجس سے تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اورکسی صاحب حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے مقابلے میں نفع نہیں پہنچا سکتی۔‘‘ [صحیح بخاری ،کتاب الدعوات:۶۳۳۰] سوال میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کواکبر ،عمر فاروق رضی اللہ عنہ کواعظم اورحضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کوغنی کہاگیا ہے۔ ان حضرات کے لیے اس قسم کے القاب ہم نے خود تجویز کیے ہیں، کتاب و سنت میں ان کاکوئی ثبوت نہیں ہے ۔اس کے علاوہ اﷲ تعالیٰ