کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 429
واجبات و حقوق سوال: دین اسلام میں مہرکی کیاحیثیت ہے ،کیایہ بیوی کاحق ہے یاباپ بھی اسے معاف کرسکتاہے، اس کے متعلق قرآن و حدیث کی کیا ہدایت ہے؟ جواب: دین اسلام میں مہربیوی کاخصوصی حق ہے۔ باپ کواجازت نہیں ہے کہ وہ خودہی اسے معاف کردے ،اس سلسلہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’عورتوں کوان کے مہر راضی خوشی میں اداکرو۔‘‘ [۴/النسآء:۴] مہرکی آیات سے معلوم ہو اکہ مہرصرف عورت کاحق ہے اسے معاف کرنابھی اسی کاحق ہے والدکے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیرمہرمعاف کردے ،اس سلسلہ میں ہم بہت افراط و تفریط کاشکارہیں ۔شادی کے موقع پر لاکھوں روپیہ رسم و رواج کی نذرکردیتے ہیں ۔لیکن حق مہر کے سلسلہ میں (عوام کے ایک طبقہ میں متداول اوراپنے طورپر رواج پذیر اصطلاح )’’شرعی حق مہر‘‘پربات آجاتی ہے ،اگر برائے نام کچھ حق مہرطے ہوجاتا ہے تولڑکی کے علم میں لائے بغیرسرپرست اسے فوراًواپس کردیتا ہے ،حالانکہ سرپرست کواللہ تعالیٰ نے یہ حق نہیں دیا کہ وہ خودہی لڑکی کی اجازت کے بغیر حق مہر واپس کردے ۔ [واللہ اعلم] سوال: ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ اہل حدیث حضرات حنفی بھائیوں کے جنازہ میں شریک نہیں ہوتے ،اس کی کیاوجہ ہے ؟ حالانکہ مسلمان کے جنازہ میں شریک ہونے کا حکم ہے۔ جواب: حضرت ا نس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال ہواکہ وہ کیاچیز ہے جس کی وجہ سے ایک انسا ن کامال اورخون دوسروں کے لیے حرام ہوجاتا ہے آپ نے فرمایا کہ ’’کلمۂ شہادت پڑھنے کے بعد جب نماز پڑھے ،ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے اورہمارے ذبح کو کھالے ایساشخص مسلمان ہے اس کے وہی حقوق ہیں جوعام مسلمانوں کے ہیں اوراس کے ذمہ وہی فرائض ہیں جودوسرے مسلمانوں پرعائد ہوتے ہیں۔‘‘ [صحیح بخاری، حدیث نمبر :۳۹۳] مسلمان کی مذکورہ تعریف ایک مرفوع حدیث سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ [صحیح بخاری، حدیث نمبر :۳۹۱] حدیث میں ہے کہ ’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پرچھ حق ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب وہ فوت ہوجائے تواس کے جنازے میں شرکت کی جائے۔‘‘ (صحیح مسلم،السلام :۲۶۶۲) ان احادیث کاتقاضاہے کہ مسلمان، خواہ معروف ہو یاغیرمعروف اس کے جنازہ میں شرکت کرناضروری ہے۔ اہل حدیث حضرات احناف کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں ،نہ معلوم وہ کون سے اہل حدیث ہیں جن کاسوال میں ذکرکیاگیاہے کہ وہ احناف کے جنازوں میں شریک نہیں ہوتے ،الحمداللہ اہل حدیث اس قدر تنگ نظرنہیں ہوتا کہ وہ دوسروں کی غمی خوشی میں شریک نہ ہو، اس بنا پر میں ان کے متعلق بدگمانی نہیں رکھتا ۔تاہم شہادتین اورادائیگی اوران کااقرارواعتراف اسلام میں داخل ہونے کا مرکزی دروازہ ہے، اگر ان کاانکار کرتے ہوئے اس دروازے سے باہرنکل جائے تووہ ہمارے نزدیک مسلمان نہیں ہے اورنہ ہی ایسے شخص کا جنازہ پڑھنے کی ضرورت ہے ۔ [واللہ اعلم]