کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 427
٭ نیک اولادجوبھی اچھے کام کرے گی والدین کووفات کے بعد اس کافائدہ پہنچتارہتا ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: انسان کے لئے وہ کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔‘‘ (۵۳/النجم: ۳۹) اوراولادبھی انسان کی کوشش اورکمائی میں سے ہے، جیساکہ حدیث میں ہے۔ [دارمی، ص: ۲۴۷، ج۲] ٭ صدقہ جاریہ اورباقیات صالحات: حدیث میں ہے کہ ’’جب انسان فوت ہو جاتا ہے توتین اعمال کے علاوہ اس کے تمام اعمال منقطع ہوجاتے ہیں، یعنی صدقہ جاریہ، ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہوں اورنیک اولاد جواس کے لئے دعاکرتی رہے۔‘‘ [صحیح مسلم ،الوصیتہ :۱۶۳۱] اس سلسلہ میں ایک جامع حدیث بھی ہے، جسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انسان کی موت کے بعد جوحسنات اوراعمال جاری رہتے ہیں وہ یہ ہیں: ٭ وہ علم جس کی اس نے لوگوں کوتعلیم دی اوراس کی خوب نشرواشاعت کی ۔ ٭ نیک اولاد جواپنے پیچھے چھوڑ گیا۔ ٭ کسی کوقرآن کریم بطورعطیہ دیا۔ ٭ مسجد بناکر وقف کردی۔ ٭ محتاج اورضرورت مند کوگھربناکردیا۔ ٭ کسی غریب کے لئے پانی کابندوبست کردیا۔ ٭ وہ صدقہ جسے اپنی زندگی اور صحت میں نکالا اس کا ثواب بھی مرنے کے بعد بدستورپہنچتا رہے گا۔ [ابن ماجہ السنۃ: ۲۴۲] درج بالاوضاحت کے علاوہ کچھ چیزیں لوگوں نے خودایجاد کررکھیں ہیں اورایصال ثواب کے لئے انہیں عمل میں لایاجاتا ہے لیکن وقت اورمال کے ضیاع کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا، مثلاً: قل خوانی، ساتواں، چالیسواں اوربرسی وغیرہ قرآن خوانی اورپھر کھانے وغیرہ کابندوبست ہوتا ہے، اس کا میت کوکچھ فائدہ نہیں پہنچتا کیونکہ کتاب وسنت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ [واللہ اعلم]