کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 426
[صحیح بخاری، فضائل القرآن: ۴۹۸۷] حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چند لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اس اقدام کوجب جذباتی اندازمیں پیش کیاتوآپ نے فرمایا:’’ مصاحف کے جلانے کے متعلق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے کلمہ خیرہی کہو۔انہوں نے یہ کام کرکے کوئی برااقدام نہیں اٹھایا۔‘‘ [فتح الباری، ص: ۱۲، ج۹] بہرحال معاملہ ہے بوسیدہ مصاحف اورپھٹے پرانے مقدس اوراق کے تقدس اوراحترام کوملحوظ رکھنے کا ،اس پر کسی صورت میں بھی آنچ نہیں آنی چاہیے۔ [واللہ اعلم] سوال: ٭ کیااپنے کٹھن معاشی حالات کے پیش نظر موت مانگی جاسکتی ہے ؟ ٭ وہ کیاچیزیں ہیں جن کامرنے کے بعد ثواب پہنچتا رہتا ہے ؟ کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں۔ جواب: دنیامیں کیسے بھی کٹھن حالات ہوں کسی بھی صورت میں موت کی آرزونہیں کرنی چاہیے۔ حدیث میں بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بحالت مرض موت کی تمناکی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے چچا جان! موت کی تمنامت کیجئے ، کیونکہ اگرآپ نیک ہیں توآپ بقیہ زندگی میں مزیدنیکیاں حاصل کریں گے، یہ آپ کے لئے بہتر ہے اورآپ اگر گناہگار ہیں تواپنے گناہوں سے توبہ کرسکتے ہیں، یہ آپ کے لئے بہتر ہے ،لہٰذا آپ کسی بھی صورت میں موت کی تمنانہ کریں ۔‘‘ [مسندامام احمد، ص: ۳۳۹، ج۶] ایک دوسری حدیث میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’تم میں سے کوئی بھی اپنی کسی مصیبت کے پیش نظر موت کی تمنانہ کرے ۔اگراس کے بغیرچارہ نہ ہوتواس طرح کہہ لے: ’’اے اللہ تعالیٰ !مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرے لئے زندگی بہتر ہے اوراس وقت فوت کرلیناجب میرے لئے مرنا بہتر ہو۔‘‘ [صحیح بخاری ،الدعوات:۲۳۵۱] مرنے کے بعد میت کومندرجہ ذیل چیزوں کاثواب پہنچتارہتا ہے : ٭ اگرکوئی اس کے حق میں دعا کرتا ہے تومیت اس سے بہرہ ورہوتی ہے بشرطیکہ دعامیں قبولیت کی شرائط موجودہوں۔ حدیث میں بیان ہے کہ اگرکوئی مسلمان اپنے بھائی کے لئے غائبانہ دعاکرتا ہے تووہ ضرورقبول ہوتی ہے ،اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ تعینات کردیاجاتاہے ۔جب وہ کسی کے لئے دعائے خیرکرتا ہے توفرشتہ اس پرآمین کہتا ہے اوراسے اللہ کے ہاں اس کے مثل اجرملنے کی دعاکرتا ہے۔ [مسند امام احمد، ص:۴۵۲، ج۶] ٭ میت کی نذرپوری کرنا۔میت نے اپنی زندگی میں کوئی نذرمانی تھی لیکن اسے پوراکئے بغیرموت آگئی تولواحقین کو چاہیے کہ اسے پوراکریں وہ نذرخواہ روزے یاحج یانمازاداکرنے کی ہو، چنانچہ روزے کے متعلق صحیح بخاری :۱۹۵۲ ،حج کے متعلق صحیح بخاری : ۱۸۵۲، نماز کے متعلق صحیح بخاری تعلیقاً ’’بَابُ مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ نَذْرٌ ‘‘ مطلق نذرکے متعلق بھی حدیث میں آیا ہے۔ [صحیح بخاری ، الایمان والنذور:۶۶۹۸] ٭ میت کی طرف سے قرض کی ادائیگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کوتاکید کی تھی کہ وہ اپنے فوت شدہ بھائی کاقرض ادا کرے کیونکہ وہ عدم ادائیگی کی وجہ سے اللہ کے ہاں محبوس ہے۔ [مسندامام احمد، ص: ۱۳۶،ج۴]