کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 424
2۔ بنک سے قرضہ لینے کی ضرورت پڑے تو اس کی جگہ سودکی رقم کوصرف کر دیا جائے۔ 3۔ ناجائز ٹیکسوں پراسے صرف کر دیا جائے۔ مگرجب اس سلسلہ میں شریعت کے احکام دیکھتے ہیں تومصلحتوں کایہ تعبیرکردہ بلندوبالا محل دھڑام سے نیچے آگرتا ہے ، کیونکہ انسان فطرتاًحریص واقع ہوا ہے، لہٰذا اسے مال کسی راہ سے بھی نظرآئے تواسے چھوڑنے کودل نہیں چاہتا ،جب اسے سود وصول کرنے کی اجازت مل جائے گی تو اس گندگی سے خودپاک وصاف نہیں رہ سکے گا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نظریہ میں لچک پیدا ہونا شروع ہوجائے گی، پھرخوداسے استعمال کرنے کی راہیں تلاش کرے گا شریعت اسے مال تسلیم نہیں کرتی کہ اسے وصول کرکے دوسری جگہ پرصرف کیاجائے۔ قرآن کریم کی واضح ہدایت ہے کہ’’تم سود سے توبہ کرلوتوتم صرف اپنے اصل سرمایہ کے حقدارہو۔‘‘ [۲/البقرہ :۲۷۹] جب سود کی رقم ہماری نہیں ہے توہمیں اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے کہ اس کامصرف کیاہوناچاہیے ،بنک کا عملہ ملی بھگت کرکے اسے ہڑپ نہیں کرسکے گا۔ یہ ایک مفروضہ ہے یہ رقم کسی عرصہ تک اس کے اکاؤنٹ میں پڑی رہے گی، پھررفتہ رفتہ سروس چارج جیسے چور دروازہ سے نکلنا شروع ہو جائے گی۔ صورت مسئولہ میں اس قسم کی غلاظت وصول کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، کیونکہ: اولاً: توکوئی آدمی ان دنوں ایسے حالات سے دوچارنہیں ہوسکتا کہ اسے مردار اورخنزیر کھانے تک نوبت آجائے ۔ ثانیاً : جوآدمی دولاکھ کامالک ہے ،اسے چاہیے کہ اپنے دوسرے بھائی کوگندگی کھلانے کے بجائے وہ اپنی حلال پاکیزہ کمائی سے اس سے تعاون کرے یاکم ازکم دولاکھ سے پانچ ہزار زکوٰۃ ہی اسے دیدے ۔ ثالثاً: ہماری جماعت ابھی تک ایسی خودغرضی کی شکارنہیں ہوئی کہ اس میں ایسے اہل خیر کافقدان ہوجوآڑے وقت کسی کے کام نہ آسکتے ہوں ،اس طرح کا مجبورانسان راقم الحروف سے رابطہ کرے اللہ کی توفیق سے ہم اسے اس قسم کی گندگی کے پاس نہیں جانے دیں گے ان شاء اللہ ۔ [واللہ اعلم] سوال: بعض ڈاکٹریااطبا اپنے کلینک کانام شفا کلینک یادارالشفا رکھتے ہیں یاعوام الناس کہتے ہیں کہ فلاں ڈاکٹر یا حکیم کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے بڑی شفارکھی ہے ،اس کی شرعی حیثیت واضح کریں؟ جواب: مسلمانوں کایہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ بیماری لگانے والااوراس سے شفا دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ قرآن کریم میں اس کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کاعقیدہ بایں الفاظ بیان ہوا ہے ’’اورجب میں بیمار ہوتا ہوں تووہ مجھے شفا دیتا ہے۔‘‘ [۲۶/الشعراء:۸۰] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری اورشفا کے متعلق ہمیں اسی عقیدہ کی تعلیم دی ہے، چنانچہ دعائے ماثورہے کہ ’’اے ہمارے رب! بیماری دورکراورشفا عطا فرما بلاشبہ توہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفا کے علاوہ اورکوئی شفا نہیں ہے،ایسی شفاہوکہ جس کے بعد کوئی بیماری نہ رہے ۔ ‘‘ [مسندامام احمد، ص: ۴۱۸،ج۳] یہ عقیدہ رکھنے کے بعداگرکوئی ڈاکٹر یاحکیم علاج گاہ کانام اچھے شگون کے لئے شفا کلینک یادارالشفا رکھتا ہے تواس میں کوئی